الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابٌ فِي غَسْلِ الْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَتَطْوِيلِ الْغُرَّةِ وَتَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ وَالدَّلْكِ
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 653
عَنْ أَبِي زُرْعَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَيْنِ، فَلَمَّا غَسَلَ رِجْلَيْهِ جَاوَزَ الْكَعْبَيْنِ إِلَى السَّاقَيْنِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا مَبْلَغُ الْحِلْيَةِ
ابو زرعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوا کر وضو کیا، جب انہوں نے بازوؤں کو دھویا تو کہنیوں سے تجاوز کر گئے، اسی طرح جب پاؤں کو دھویا، تو ٹخنوں سے تجاوز کر کے پنڈلیوں کو بھی دھونے لگ گئے، میں نے کہا: ”یہ کیسا وضو ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ زیور اور زینت کے پہنچنے کی جگہ ہے۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7559، ومسلم: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7166»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہؓکا مقصد یہ تھا کہ جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا، وہ ساری جگہ قیامت والے دن چمکتی ہو گی، مزید وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 654
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ أَنَّهُ رَقِيَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ) ) فَقَالَ نُعَيْمٌ: لَا أَدْرِي قَوْلَهُ مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ
نعیم بن عبداللہ مجمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے، وہ (کہنیوں سے اوپر والے) بازوؤں کے حصے کو دھونے لگے، پھر مجھ پر متوجہ ہوئے اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک قیامت کے روز وضو کے آثار کی وجہ سے میری امت کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے، اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔“ نعیم نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ ’اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے۔‘ کے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 654]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8394»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن قیم نے ان الفاظ کو مدرج شمار کیا ہے، شیخ البانی کا رجحان بھی اس طرف ہے، دیکھیں: ارواء الغلیل: ۹۴ حافظ ابن حجر نے کہا: دس صحابہ نے اس حدیث کو بیان کیا، ان سب نے جو آدمی اپنی سفیدی کو لمبا کرنا چاہتا ہے، وہ کرے کے الفاظ بیان نہیں کیے اور سیدنا ابو ہریرہ ؓکے شاگردوں میں سے بھی صرف نعیم مجمر نے روایت کیے۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۳۶) اور ان کو بھی ان الفاظ کے بارے میں تردّد ہے۔
((فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَن یُطِیْلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ۔)) کے متعلق بعض اہل علم کی رائے ہے کہ یہ الفاظ مدرج ہیں، مرفوع حدیث کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن کہنیوں اور پاؤں سے سے زاید حصہ دھونا ابو ہریرہؓ کے اپنے عمل اور ان کے واسطہ سے مرفوعاً ثابت ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۴۶) میں ہے کہ ابو ہریرہؓ نے وضو کرتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ بازو دھوئے اور پاؤں کے ساتھ پنڈلیوں کو دھویا اور فرمایا: ہٰکذا رأیت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتوضا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سے مذکورہ بالا جملے کے مرفوع ہونے کی تائید ہوتی ہے اور ہاتھوں کے ساتھ بازو اور پاؤں کے پنڈلیوں کو دھونا جائز اور درست ہے۔ (عبداللہ رفیق)
((فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَن یُطِیْلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ۔)) کے متعلق بعض اہل علم کی رائے ہے کہ یہ الفاظ مدرج ہیں، مرفوع حدیث کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن کہنیوں اور پاؤں سے سے زاید حصہ دھونا ابو ہریرہؓ کے اپنے عمل اور ان کے واسطہ سے مرفوعاً ثابت ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۴۶) میں ہے کہ ابو ہریرہؓ نے وضو کرتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ بازو دھوئے اور پاؤں کے ساتھ پنڈلیوں کو دھویا اور فرمایا: ہٰکذا رأیت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتوضا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سے مذکورہ بالا جملے کے مرفوع ہونے کی تائید ہوتی ہے اور ہاتھوں کے ساتھ بازو اور پاؤں کے پنڈلیوں کو دھونا جائز اور درست ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 655
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَهُ مِنْ أُمَّتِكَ؟ فَقَالَ: ( (إِنَّهُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”آپ اپنی امت کے ان افراد کو کیسے پہچانیں گے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا نہیں ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک وضو کے آثار کی وجہ سے ان کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوئے اور چتکبرے ہوں گے۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3820»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 656
عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وَهُوَ يُمِرُّ الْوَضُوءَ إِلَى إِبْطِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! مَا هَذَا الْوُضُوءُ؟ قَالَ: يَا بَنِي فَرُّوخَ! أَنْتُمْ هَا هُنَا؟ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَا هُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ إِلَى حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ) )
ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے اور انہوں نے وضو کا پانی بغل تک پہنچا دیا، میں نے کہا: ”اے ابو ہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے بنو فروخ! تم لوگ یہاں ہو؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں نے یہ وضو نہیں کرنا تھا، میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ’زیور اور زینت مؤمن کی اس جگہ تک پہنچے گی، جہاں تک وضو پہنچتا ہے۔‘“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8827»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا امتیازی وصف بیان کیا گیا ہے، جو اِن کو قیامت کے میدان میں نصیب ہو گا اور اسی وصف کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کی شناخت کریں گے۔ ہر فرد کونماز اور وضو کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ وہ اس سعادت سے محروم نہ ہو جائے۔ فروخ، حضرت ابراہیم ؑکا ایک بیٹا تھا، یہ عجموں کا باپ ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓکی اس بات کا مقصد یہ تھا کہ جس آدمی کی اقتدا کی جاتی ہو، اس کو چاہیے کہ کم فہم لوگوں کے سامنے رخصتوں اور تشدّد والے اعمال پر عمل نہ کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ رخصت کو مستقل حکم سمجھ کر ضرورت کے بغیر اس کو اپنا لیں اور تشدّد والے عمل کو واجب سمجھ لیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 657
عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ) )
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”جب تو وضو کرے، تو انگلیوں کا خلال کیا کر۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 657]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 142، 144، والترمذي: 38، والنسائي: 1/ 79، وابن ماجه: 448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16494»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 658
عَنْ أَبِي سَوْرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ) ) قِيلَ: وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ؟ قَالَ: ( (فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلال کرنے والے بہت اچھے ہیں۔“ کسی نے کہا: ”خلال کرنے والوں سے مراد کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، واصل بن السائب الرقاشي وابو سورة مجمع علي تضعيفھما، وابو سورة لا يعرف له سماع من ابي ايوب۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 12، والطبراني في الكبير: 4061، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23924»
وضاحت: فوائد: … لیکن اس روایت کے شروع والے الفاظ صحیح ہیں، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) … بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۳۹، صحیحۃ:۲۵۶۷) معلوم ہوا کہ وضو میں ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتے وقت ان کی انگلیوں کو خلال کرنا چاہیے، ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں میں ڈال کر اور پاؤں کی انگلیوں کا چھنگلی انگلی سے خلال کرنا چاہیے۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر: ۶۹۲۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 659
عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَجَعَلَ يَقُولُ هَكَذَا، يَدْلُكُ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو میں (اعضا کو) ملنے لگے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 659]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح من حديث ام عمارة جدة عباد بن تميم۔ أخرجه الطيالسي: 1099، وابن حبان: 1082، وابن خزيمة: 118، والحاكم: 1/ 144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16555»
وضاحت: فوائد: … اعضا کو ملنے سے بعض مقامات کے خشک رہ جانے کا احتمال ختم ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح