الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابٌ فِي الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَجَوَازِ الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 715
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْمَازِنِيِّ مَازِنِ بَنِي النَّجَّارِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ وَضُوءَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّ هُوَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرِ بْنِ الْغَسِيلِ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَوُضِعَ عَنْهُ الْوُضُوءُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ، قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً عَلَى ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُهُ حَتَّى مَاتَ
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا کہ اس بارے میں تیرا خیال ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ باوضو ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، ایسے کیوں ہے؟ اس نے کہا: سیدہ اسماءؓ نے ان کو بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باوضو ہوتے یا بے وضو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ حکم گراں گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کی رخصت دے دی گئی، الا یہ کہ بے وضو ہوں۔ تو سیدنا عبد اللہؓ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی طاقت ہے، اس لیے وہ اسی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 715]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22306»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہر نماز کے لیے وضو کرنا واجب تھا، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا شروع سے ایک ہی حکم تھاکہ ایک وضو سے ایک سے زائد نمازیں پڑھی جا سکتی تھیں، بہرحال نیا وضو کر لینا فضیلت والا عمل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 716
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَأَنْتُمْ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ میں (عمرو بن عامر) نے کہا: اور تم صحابہ لوگ کیسے کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جب تک ہم بے وضو نہ ہوجاتے تھے، اس وقت تک ایک ہی وضو سے نمازیں پڑھتے رہتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 716]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12371»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 717
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ؟ قَالَ: ( (عَمَدًا صَنَعْتُهُ) )
سیدنا بریدہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ایک ہی وضو سے ایک سے زائد نمازیں ادا کیں، سیدنا عمر ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آج آپ نے ایسا عمل کیا ہے جو پہلے نہیں کیا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 717]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23354»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ سے پہلے غزوۂ خیبر کے موقع پر بھی ایک وضو سے ایک سے زائد فرضی نمازیں ادا کی تھیں، سیدنا سوید بن نعمان ؓنے یہ حدیث بیان کی، ممکن ہے کہ سیدنا عمرؓ کو اس صورت کا علم نہ ہو سکا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 718
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ، فَقَالَ: ( (مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟) ) قَالَ: مَاءٌ تَوَضَّأْ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ( (مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ كَانَتْ سُنَّةً) )
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، سیدنا عمرؓ برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: عمر! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی ہے، آپ اس کے ساتھ وضو کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم تو نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اور اگر میں نے ایسا کیا تو یہ قابلِ پیروی طریقہ بن جائے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن يحييٰ الضبي۔ أخرجه ابوداود: 42،وابن ماجه: 327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25150»
وضاحت: فوائد: … لیکن یہ بات درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت باوضو رہنے کا اہتمام نہیں کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلاء سے خارج ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا پیش کر دیا گیا، لوگوں نے کہا کہ کیا ہم وضو کا پانی لے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا اُمِرْتُ بِالْوُضُوْئِ اِذَا قُمْتُ اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) … مجھے صرف وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے، جب میں نماز ادا کرنے لگوں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 719
وَعَنْهَا أَيْضًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ تَوَضَّأَ
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت الخلاء سے نکلتے تو وضو کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26076»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 720
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ وَمَعَ كُلِّ وَضُوءٍ بِسِوَاكٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے، ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے اور نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے کا حکم دے دیتا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي بذكر السواك فقط: 22، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7504»
وضاحت: فوائد: … ہمارے حق میں اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، البتہ باوضو ہونے کے باوجود ہر نماز کے لیے از سرِ نو وضو کر لینا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے، نیا وضو کرنے سے نماز کے حسن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح