الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابٌ فِي جَوَازِ الْوُضُوءِ فِي الْمَسْجِدِ وَاسْتِحْبَابِهِ لِمَنْ أَرَادَ النَّوْمَ
مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 721
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَفِظْتُ لَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فِي الْمَسْجِدِ
ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تیرے لیے یہ بات یاد رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں وضو کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مسدد في مسنده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23477»
وضاحت: فوائد: … جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو سیدہ عائشہ ؓکی طرف اپنے سر مبارک کو جھکاتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر دھوتیں اور کنگھی کرتیں تھیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ہی ہوتے تھے، یہ حدیث آ گے آ رہی ہے۔ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح ہی وضو کر لیا، بہرحال وضو کرنے والے کے اعضاء سے گرنے والا پانی پاک ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 722
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ (وَفِي رِوَايَةٍ: زِيَادَةُ وَهُوَ جُنُبٌ) تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے کا ارادہ کرتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت سے ہوتے، تو نماز والا وضو کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 722]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25115»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 723
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَرْقُدُ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے اور پھر سوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 723]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25414»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا ہم میں سے کوئی آدمی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَنَامُ، وَیَتَوَضَّأُ اِنْ شَائَ۔)) … جی ہاں، وہ سو سکتا ہے، البتہ اگر وہ چاہے تو وضو کر لے۔ (صحیح ابن خزیمہ: ۱/ ۱۰۶، صحیح ابن حبان: ۴/۱۵) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنبی کے لیے سونے سے پہلے وضو کرنا مستحب ہے، جمہور اہل علم کی بھی یہی رائے ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 724
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَتَوَضَّأْ وَنَمْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ وَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ إِلَيْكَ، …) ) الْحَدِيثَ
سیدنا براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر آؤتو وضو کرو، اپنے دائیں پہلو پر سوؤ اور یہ دعا پڑھو: اللَّہُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ اِلَیْکَ …۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 724]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6311، ومسلم: 2710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18788»
وضاحت: فوائد: … پوری دعا کے ساتھ پوری حدیث یوں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آپ سونے لگیں تو وضوء کریں اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ دعا پڑھیں‘ اگر آپ اسی رات کو فوت ہو گئے تو فطرت (دین اسلام) پر فوت ہوں گے اور اگر زندہ رہے تو (اس دعا کی وجہ سے) خیر وبھلائی کو پا لیں گے: اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ، وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَاَلْجَأْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔ … (اے اللہ!میں نے اپنے نفس کو تیرے مطیع کر دیا، اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا، اپنی پشت تیری طرف جھکا دی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، تجھ سے نہ کوئی پناہ لینے کی جگہ اور نہ بھاگ کر جانے کی مگر تیری طرف، میں تیری کتا ب پر ایمان لایا جو تونے نازل کی اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا۔) یہ دعا سب سے آخرمیں پڑھنی ہے۔ (بخاری‘ مسلم) ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ بَاتَ طَاہِراً بَاتَ فِی شِعَارِہِ مَلَکٌ، لَایَسْتَیْقِظُ سَاعَۃً مِنَ اللَّیْلِ إِلاَّ قَالَ الْمَلَکُ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِکَ فُـلَانٍ، فَإِنَّہُ بَاتَ طَاہِراً۔)) … جو آدمی باوضو رات گزارتا ہے (یعنی وضو کر کے سوتا ہے)، ایک فرشتہ اس کے تحتانی لباس میں رات گزارتا ہے، جب بھی وہ بندہ رات کی کسی گھڑی میں بیدار ہوتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! اپنے فلاں بندے کو بخش دے، کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری۔ (ابن حبان: ۱۶۷، صحیحہ: ۲۵۳۹) یہ نیک اعمال کی برکات ہیں کہ سو جانے کے بعد وضو تو برقرار نہیں رہتا، لیکن اس کے اچھے اثرات باقی رہتے ہیں، سونے سے پہلے وضو کر لینا فضیلت والا عمل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح