🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 819
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ فَوُضِعَتْ لَهُ هَاهُنَا (قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: أَمَامَنَا) جَفْنَةٌ، فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَهَاهُنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ عُمَرُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: روٹی اور گوشت پر مشتمل کھانا رسو ل اللّٰہُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا)، پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا او رنمازِ ظہر ادا کی، پھر واپس آ کر بچا ہوا کھانا منگوایا اور اس کو تناول فرمانے کے بعد پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا، پھر میں سیدنا عمر ؓ کے ساتھ داخل ہوا، ان کے لیے یہاں ہمارے سامنے ایک بڑا پیالَہُ رکھا گیا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، وہ پیالَہُ یہاں رکھا گیا تھا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، پس سیدنا عمر ؓ نے یہ کھانا کھایا اور پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 191، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14507»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 820
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نُعْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّحْبَاءِ وَصَلَّى الْعَصْرَ دَعَا بِالْأَطْعِمَةِ، فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَهُ وَمَا مَسَّ مَاءً
سیدنا سوید بن نعمان ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر والے سال رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم صہباء مقَامَ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر ادا کی اور کھانا طلب کیا، صرف ستو لایا گیا، لوگوں نے کھایا اور پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلی کر کے نمازِ مغرب کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم نے بھی کلی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وضو کے لیے) پانی کو چھوا تک نہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 820]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 209، 4195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15893»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 821
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهَٰذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: میں، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روٹی پر مشتمل کھانا کھایا، پھر میں (انس) نے وضو کیلئے پانی منگوایا، ان دونوں نے مجھے کہا: تم کیوں وضو کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے، انھوں نے کہا: کیا تم پاکیزہ چیزیں کھانے کی وجہ سے وضو کرتے ہو؟ اس ہستی نے تو اس قسم کے کھانے کے بعد وضو نہیں کیا تھا، جو تم سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 821]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه مالك في المؤطا: 1/ 27، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 69، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21499»
وضاحت: فوائد: … وضو کرنے یا نہ کرنے کا تعلق پاکیزہ چیزوں سے نہیں تھا، شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کرتے تھے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کو ترک کر دیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 822
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شِوَاءً فِي الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَدْخَلْنَا أَيْدِيَنَا فِي الْحَصَى ثُمَّ قُمْنَا نُصَلِّي وَلَمْ نَتَوَضَّأْ
سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھونا ہوا گوشت کھایا، پھر نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، پس ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں کے ساتھ ملے اور پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور وضو نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 822]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 3311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17854»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 823
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: ( (وَرَاءَكَ) ) فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيْسَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَيْرٌ، وَلَكِنْ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُهُ فَعَلَ ذَلِكَ النَّاسُ بَعْدِي) )
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا، پھر نماز کیلئے اقامت کہہ دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کھانے سے پہلے وضو کر چکے تھے، میں پھر پانی لے آیا، (میرے خیال میں یہ تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر وضو کریں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا: پیچھے ہٹ جا۔ اللہ کی قسم! یہ بات مجھ پر تو بڑی گراں گزری، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، میں نے سیدنا عمرؓ کے سامنے اپنی شکایت رکھی (کہ آج میرے ساتھ یہ کچھ ہوا ہے)۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا مغیرہ کو جھڑکنا، یہ چیز ان پر بڑی گراں گزری ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ ان کے بارے میں آپ کے دل میں کوئی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے دل میں ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ میرے وضو کیلئے پانی لے آئے تھے، جبکہ میں نے تو صرف کھانا ہی کھایا تھا، اب اگر میں وضو کر دیتا تو میرے بعد لوگوں نے بھی کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 823]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 48، والطبراني في الكبير: 20/ 1008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18406»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 824
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذَبَحْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةً فَأَمَرَنَا فَعَالَجْنَا لَهُ شَيْئًا مِنْ بَطْنِهَا فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
سیدنا ابو رافعؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک بکری ذبح کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق ہم نے اس کے پیٹ کا کوئی حصہ پکایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا اور پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 824]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24356»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 825
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْقِدْرَ فَيَأْخُذُ الذِّرَاعَ مِنْهَا فَيَأْكُلُهَا ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأْ
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنڈیا کے پاس تشریف لاتے، اس سے دستی نکال کر تناول فرماتے اور پھر نیا وضو کیے بغیر نماز پڑھتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 825]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 50، وابويعلي: 4449، والبزار: 298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26828»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 826
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مَرْوَانَ قَالَ: تَوَضَّأُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: نَهَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي كَتِفًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں: جب سیدنا ابوہریرہؓ نے مروان کو یہ حدیث بیان کی کہ جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔ مروان نے یہ سن کر سیدہ ام سلمہؓ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: میرے پاس تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندھے کا گوشت نوچا اور نماز کی طرف چلے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 826]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 48، وابويعلي: 7005، والطبراني في الكبير: 23/ 628، والنسائي في الكبري: 6656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27147»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 827
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
مولائے ابن عباس کریب بیان کرتے ہیں کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے کندھے سے گوشت تناول فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور نیا وضو کیے بغیر نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 189، وابن ماجه: 488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2406»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 828
عَنْ فَاطِمَةَ (الزَّهْرَاءِ) بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرْضَاهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ عَرْقًا فَجَاءَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ لِيُصَلِّي فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ! أَلَا تَتَوَضَّأْ؟ فَقَالَ: ( (مِمَّ أَتَوَضَّأُ يَا بُنَيَّةُ؟) ) فَقُلْتُ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ لِي: ( (أَوَلَيْسَ أَطْيَبُ طَعَامِكُمْ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ) )
سیدہ فاطمہ زہراءؓ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ہڈی پر لگاہوا گوشت کھایا، اتنے میں سیدنا بلالؓ نماز کیلئے بلانے کیلئے آ گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے کو پکڑ کر کہا: اے ابو جان! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! کس چیز سے میں وضو کروں؟ میں نے کہا: آگ پر پکے ہوئے کھانے کو کھانے سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہارا سب سے پسندیدہ کھانا وہی نہیں ہے، جس کو آگ پر پکایا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 828]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن بن الحسن بن علي بن ابي طالب لم يدرك جدته فاطمهؓ، ومحمد بن اسحاق مدلس، واختلف عليه۔ أخرجه ابويعلي: 6740، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26950»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں