الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ تَنْزِيهِ الْمَسَاجِدِ عَنِ الْأَقْذَارِ
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1340
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيُغَيِّبْ نُخَامَتَهُ أَنْ تُصِيبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ فَتُؤْذِيَهُ) )
سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں کھنکارپھینکے تو وہ اسے چھپا دیا کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی مومن کے جسم یا کپڑے پر لگ جائے اور اس طرح اسے تکلیف ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 1127، وابو يعلي: 808، وابن ابي شيبة: 2/ 367، وابن خزيمة: 1311، والبيھقي في شعب الايمان: 11179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1543»
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 1127
حدیث نمبر: 1341
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَى فِي الْقِبْلَةِ نُخَامَةً، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: ( (إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَسْتَقْبِلُهُ بِوَجْهِهِ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ) ) ثُمَّ دَعَا بِعُودٍ فَحَكَّهُ ثُمَّ دَعَا بِخَلُوقٍ فَحَضَبَهُ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجدمیں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبلہ کی سمت میں ایک کھنکار نظر آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجا ت کرتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی طر ف اور نہ ہی اپنی دائیں طر ف کھنکار پھینکا کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لکڑی منگوا کر اسے کھرچ دیا اور خوشبو منگوا کر وہاں لگا دی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1213، 6111، ومسلم: 547، وابوداود: 479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4509، 4908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4908»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1213
حدیث نمبر: 1342
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَدْفِنْهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں تھوکے تو اسے دفن کردیا کرے، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تواپنے کپڑے میں تھوکا کرے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1342]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرج بنحوه ابوداود: 477، وأخرج مسلم: 550 مطوّلا منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7405، 7531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7522»
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرج بنحوه ابوداود: 477
حدیث نمبر: 1343
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: ( (لْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى) )
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں ایک کھنکار دیکھااور اسے کنکری سے کھرچ دیا، پھر آدمی کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوکا کرے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 414، ومسلم: 548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11039»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 414
حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ أَنْ يُمْسِكَهَا بِيَدِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ وَاحِدٌ مِنْهَا فَرَأَى نُخَامَاتٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضِبًا فَقَالَ: ( (أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ؟ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى أَوْ عَنْ يَسَارِهِ، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَٰكَذَا) ) وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ وَتَفَلَ يَحْيَى فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ میں کھجور کی ٹہنیاں رکھنا پسند تھا، ایک دن آپ کے ہاتھ میں یہی ایک ٹہنی تھی کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں کچھ کھنکار دیکھ کر انہیں کھرچا حتی کہ انہیں صاف کر دیا، پھر غصہ کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: کیا تم سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی آدمی آئے اوراس کے چہرے پہ تھوک دے؟ (غور کرو کہ) جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا ربّ اس کے سامنے ہوتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں جانب، (اس لیے) وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ وہ اپنے بائیں قدم کے نیچےیا اپنی بائیں طرف تھوکے، اگر اس کو کوئی جلدی پڑ جائے تو وہ اس طرح کرلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے کے بعض حصے کو بعض پر مل دیا۔ اور راویٔ حدیث یحییٰ نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1344]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 480، وابن حبان: 2271، وابن خزيمة: 926، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11185) وقد سلف مختصرا برقم: 324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11203»
الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 480
حدیث نمبر: 1345
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (النُّخَامَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1345]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 415، مسلم: 552، وابوداود: 475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12062، 12775، 13450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13484»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 415
حدیث نمبر: 1346
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فَلَا يَتْفُلْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے کوئی آدمی اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرے۔ ابن جعفر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے اور اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1346]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 531، ومسلم: 551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12063، 12809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12086»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 531
حدیث نمبر: 1347
عَنْ أَبِي غَالِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ وَدَفْنُهَا حَسَنَةٌ) )
سیّدنا ابو امامۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا برائی ہے اور اسے دفن کرنا نیکی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1347]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 365، والطبراني في الكبير: 8091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22598»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 365
حدیث نمبر: 1348
عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَسَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: ( (لَا يُصَلِّي لَكُمْ) ) فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (نَعَمْ) ) وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: ( (آذَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ) )
ابو سعد کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا وا ثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو مسجد ِدمشق میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک کر اسے قدم کیساتھ رگڑ دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو کر مسجد میں تھوک رہے ہیں؟ تو سیّدنا وا ثلہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 484، والطيالسي: 1013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16677»
الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 484
حدیث نمبر: 1349
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنَةٍ وَسَيِّئَةٍ، فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا إِمَاطَةَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ) )
سیّدنا ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے دوران نماز قبلہ کی طرف تھوکا۔ جس وقت وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص آئندہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ بعد میں جب اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے منع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اسے سنا دیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) کیونکہ تو نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1349]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 481، وابن حبان: 1636، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21883»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت میں ہے: ((اِنَّکَ قَدْ آذَیْتَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ)) تونےاللہاوراسکےرسولکوتکلیف دی ہے۔ یہ بہت بڑی ڈانٹ ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس آدمی نے ایسا کام کیا جس کو اللہ اور اس کا رسول پسند نہیں کرتا ہے۔امامت و خطابت جیسی ذمہ داریاں سنبھالنے والوں کو متنبہ ہو جانا چاہیے اور اپنے منصب کی قدر کرتے ہوئے تمام آلائشوں سے باز رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث: حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 481