الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَصُبْحِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1638
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَ {يٰسٓ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ}
مدینہ منورہ کا ایک باشندہ کہتا ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمازِ فجر میں سورۂ ق اور سورۂ یس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ((يسن والقرآن الحكيم)) لتفرد سماك بن حرب به، وھو ممن لا يحتمل تفرده لسوء حفظه۔ ولقراء ة النبي صلي الله عليه وآله وسلم سورة {ق} في الفجر شاھد من حديث قطبة بن مالك عند مسلم: 457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16396)۔ (1639) أخرجه مسلم: 456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16510»
وضاحت: فوائد: … سورۂ تکویر کی آیات کی تعداد (۲۹) ہے
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ((يسن والقرآن الحكيم)) لتفرد سماك بن حرب به
حدیث نمبر: 1639
عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ}
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمازِ فجر میں سورۂ تکویر کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت بھی پڑھی: {وَاللَّیْلِ إِذَاعَسْعَسَ} [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18940»
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18940
حدیث نمبر: 1640
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ {لَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ}
۔ (دوسری سند)انھوں ے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا: {لاَ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ۔ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ} [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1640]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18944»
وضاحت: فوائد: … یہ سورۂ تکویر کی ہی آیات ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 1641
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ}
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فجر کی نماز میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ}۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1641]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19110»
وضاحت: (۱۶۳۸) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: ((یسن والقرآن الحکیم)) لتفرد سماک بن حرب بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ لسوء حفظہ۔ ولقراء ۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۃ {ق} فی الفجر شاھد من حدیث قطبۃ بن مالک عند مسلم: ۴۵۷ (انظر: ۱۶۳۹۶)۔ (۱۶۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۵۶ (انظر: ۱۸۷۳۳)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 457
حدیث نمبر: 1642
عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} إِلَّا مِنْ وَرَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ر ضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سورۂ ق کو یاد نہیں کیا، مگر اس حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہوتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، عبد الرحمن بن ابي الرجال صدوق ربما أخطأ، وقد خالف ھنا الرواة عن يحييٰ بن سعيد الانصاري في متن الحديث۔ أخرجه بھذه اللفظة: النسائي: 2/ 157 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28181»
وضاحت: فوائد: … اس مضمون کے ساتھ سیدہ ام ہشام رضی اللہ عنہا کییہ حدیث ضعیف ہے، اس کے مقابلے میں ثقات کی محفوظ اور مقبول روایتیہ ہے: سیدہ ام ہشام کہتی ہیں: میں نے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ} سن کر یاد کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو خطبہ میں اس سورت کی تلاوت کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۲۷۶۲۸، مسلم: ۸۷۲) یہ علیحدہ بات ہے کہ صحیح مسلم (۴۵۷) میں سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز فجر میں سورۂ ق کی تلاوت کرنا ثابت ہے، یہ روایت ابھی ابھی گزری ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة
حدیث نمبر: 1643
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَمَدَّ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بھی اسی طرح رہی، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے، انھوں نے نماز فجر میں قیام لمبا کر دیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1643]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابويعلي: 3844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13104»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلیفۂ اول کی نمازیں مختصر ہوتی تھیں، جیسا کہ اس باب کی دیگر احادیث اور آخر میں دیئے گئے خلاصۂ کلام سے پتہ چلے گا۔ بہرحال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں قراء ت کی مقدار کو مزید بڑھا دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابويعلي: 3844
حدیث نمبر: 1644
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُخَفِّفُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ، قَالَ وَنَبَّأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِـ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَنَحْوِهَا
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تخفیف کرتے تھے اور اِن موجودہ لوگوں کی نماز کی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں سورۂ ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1644]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21132»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 458
حدیث نمبر: 1645
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كَنَحْوٍ مِنْ صَلَاتِكُمُ الَّتِي تُصَلُّونَ الْيَوْمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ، كَانَتْ صَلَاتُهُ أَخَفَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ الْوَاقِعَةَ وَنَحْوَهَا مِنَ السُّوَرِ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: آج تم لوگ جو نماز ادا کر رہے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح ہی نمازیں پڑھتے تھے، البتہ آپ تخفیف کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تمہاری نماز کی بہ نسبت تخفیف والی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر میں سورۂ واقعہ اور اس جیسی سورتیں تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه عبد الرزاق: 2720،وابن خزيمة: 531، وابن حبان: 1813، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21306»
وضاحت: فوائد: … سورۂ واقعہ تین رکوعات اور (۹۶) آیات پر مشتمل ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِن بعد والے لوگوں نے نمازوں کو اس قدر طویل کر دیا تھا کہ اس کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سورۂ واقعہ کی تلاوت بھی مختصر نظر آتی تھی۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه عبد الرزاق: 2720
حدیث نمبر: 1646
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:547، 599، ومسلم:647 (19767، 19800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20005»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:547
حدیث نمبر: 1647
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ {الٓم تَنْزِيلُ} وَ {هَلْ أَتَى}، وَفِي الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ}
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر کی اور نماز جمعہ میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1993»
وضاحت: فوائد: … ان سورتوں کی کمیت درج ذیل ہے:
سورہ سجدہ: … تین رکوعات اور (۳۰) آیات
سورۂ دہر: … دو رکوعات اور (۳۱) آیات
سورۂ جمعہ: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورۂ منافقون: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورہ سجدہ: … تین رکوعات اور (۳۰) آیات
سورۂ دہر: … دو رکوعات اور (۳۱) آیات
سورۂ جمعہ: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورۂ منافقون: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 879