الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ
وتر کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2188
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَوْسَطَهُ وَآخِرَهُ
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے میں، کبھی درمیانے حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں نمازِ وتر پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2188]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع ابا عبد الله الجدلي۔ أخرجه الطيالسي: 606، والطبراني في الكبير: 17/ 679، وفي الاوسط: 6985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22221»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 2189
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رات کے ہر حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وتر سحری تک ختم ہو جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2189]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 996، ومسلم: 745، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24692»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 996
حدیث نمبر: 2190
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا أَوْتَرَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ بَعْدَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات سونے سے پہلے وتر پڑھا کرتے اور کبھی کبھار سونے کے بعد پڑھ لیتے، اسی طرح بسا اوقات سونے سے پہلے غسل جنابت کر لیا کرتے اور کبھی کبھار اِس غسل سے پہلے سو جاتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2190]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مسلم بقصة الغسل من الجنابة: 307، وأخرجه مطولا ومختصرا ابوداود: 226، والنسائي: 1/ 125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24453، 25070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25584»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه مسلم بقصة الغسل من الجنابة: 307
حدیث نمبر: 2191
عَنْ أَبِي نَهِيكٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وَتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصَّبْحَ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرُوهَا، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فَيُوْتِرُ
ابو نہیک سے مروی ہے کہ سیدناابو الدردا رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے، ایک دن انھوں نے کہا کہ جو آدمی صبح کو پا لے، اس کے لیے کوئی وتر نہیں ہے، یہ سن کر کچھ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور ان کو یہ بات بتلائی، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الاوسط، والبيھقي: 2/ 479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26586»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی عذر کی بنا پر طلوع فجر تک وتر نہ پڑھ سکتے تو بعد میں ادا کر لیا کرتے تھے، امام مالک نے مؤطا: ۱/ ۱۲۶ میں کئی صحابہ سے طلوع فجر کے بعد وتر پڑھنے کے آثار نقل کیے ہیں اور پھر کہا: وہ شخص طلوع فجر کے بعد وتر پڑھے گے جو سو جائے گا، وگرنہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ جان بوجھ نماز وتر کی ادائیگی میں تاخیر کرے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔
درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الاوسط
حدیث نمبر: 2192
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ أَثْبَتَ الْوِتْرَ فِي هَٰذِهِ السَّاعَةِ، قَالَ: وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ
عبد خیر کہتے ہیں: ہم مسجد میں تھے، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے، ہم سے جو ایک رکعت پڑھ چکا تھا، (لیکن اس کی ایک رکعت باقی تھی تو) اس نے وہ رکعت ادا کی،یہاں تک کہ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے شروع میں وتر پڑھتے تھے، پھر اس کے درمیان میں پڑھنے لگے، لیکن بعد میں اس وقت میں نمازِ وترکی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ یہ طلوعِ فجر کے قریب کا وقت تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2192]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي اسرائيل اسماعيل بن خليفة الملائي۔ أخرجه مختصرا البزار: 790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 974»
وضاحت: فوائد: … رات کے آخری وقت کے افضل ہونے کی بعض وجوہات پہلے بھی گزر چکی ہیں کہ اس وقت میں آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس وقت میں پڑھی جانے والی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 2193
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُّوْتِرَ هَٰذِهِ السَّاعَةَ، ثَوِّبْ يَا ابْنَ التَّيَّاحِ! أَوْ أَذِّنْ أَوْ أَقِمْ (وَفِي لَفْظٍ:) قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
بنو اسد کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہمارے پاس سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے،لوگوں نے ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس وقت وتر پڑھیں۔ پھر کہا: ابن تَیّاح! الصلاۃ خیر من نوم کہو یا اذان کہو یا اقامت کہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت نکلے، جب مؤذن نے نمازِ فجر کے لیے الصلاۃ خیر من نوم کے الفاظ پر مشتمل اذان کہی۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2193]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل من بني اسد الراوي عن علي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 689»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل من بني اسد الراوي عن علي
حدیث نمبر: 2194
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي اللَّيْلَ مَثْنَى مَثْنَى، ثُمَّ يُوْتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّ الْأَذَانَ أَوِ الْإِقَامَةَ فِي أُذُنَيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر (فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہوتے اور (اتنا جلدی ادا کر لیتے) کہ گویا کہ اذان یا اقامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کان میں ہوتی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2194]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4860»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں آخری الفاظ یہ ہیں: وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ کَاَنَّ الْاَذَانَ بِاُذُنَیْہِ (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے (اتنی جلدی سے) دو رکعتیں ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے)۔ ان ہی الفاظ کی روشنی میں حدیث ِ مبارکہ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ متن میں زیرِ مطالعہ حدیث میں لفظ اذان یا اقامت شک کے ساتھ ہے، اور فوائد کے تحت درج صحیح مسلم کی حدیث میں شک کے بغیر اذان کا لفظ ہے لیکن شارح صحیح مسلم نے بھی لکھا ہے کہ اس سے مراد اقامت ہے مگر ایک دوسری حدیث میں بھی اقامت کو اذان کہا گیا ہے ((بَیْنَ کُلِّ اَذَانَیْنِ صَلٰوۃٌ)) (بخاری: ۶۳۲) حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کی سنتیں آپ جلدی ادا کر لیتے گویا آپ اقامت کی آواز سن رہے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 995
حدیث نمبر: 2195
عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وتر کی نماز کو صبح سے پہلے پہلے ادا کر لیاکرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 750، وابوداود: 1436، والترمذي: 467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4952، 4954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4952»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 750
حدیث نمبر: 2196
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغرب کی نماز، دن کی نماز کا وتر ہے، اور تم (نماز وتر ادا کر کے) رات کو نماز کو طاق کر لیا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخر میں وتر ایک رکعت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2196]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ((صلاة المغرب وتر صلاة النھار، فأوتروا صلاة الليل)) وھذه الجملة موقوفة علي ابن عمر۔ أخرجه عبد الرزاق: 4676، والنسائي في الكبري: 1382، والطبراني في الاوسط: 965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4847، 5549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5549»
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: ((صلاة المغرب وتر صلاة النھار
حدیث نمبر: 2197
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وَتْرًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وتر کو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2197]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 998، ومسلم: 751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4710»
وضاحت: فوائد: … کیا نماز وتر کے بعد نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟ اس کا ذکر اگلے ساتویں باب میں آئے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 998