الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ فَضْلِ السَّحُورِ وَالْأَمْرِ بِهِ
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
حدیث نمبر: 3723
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو، بیشک سحری کے کھانے میں برکت ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3723]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ اخرجه النسائي: 4/ 141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10188»
الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ اخرجه النسائي: 4/ 141
حدیث نمبر: 3724
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ فِي السُّحُورِ وَالثَّرِيدِ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن ابي ليلي۔ اخرجه عبد الرزاق: 19571، وابويعلي: 6367، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7794»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو جاتا ہے:
سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْبَرَکَۃُ فِی ثَلَاثٍ: الْجَمَاعَاتِ وَالثَّرِیْدِ وَ السَّحُوْرِ۔)) ”تین چیزوں میں برکت ہے، جماعتوں میں، ثرید میں اور سحری کے کھانے میں۔“ (الشعب للبیہقي:۲/۴۲۶/۲، المعجم الکبیر، صحیحہ: ۱۰۴۵) روٹی کو چور کر شوربے میں بھگو کر بنائے ہوئے کھانے کو ثرید کہتے ہیں،یہ زود ہضم ہوتا ہے اور کھانے کی زیادہ مقدار سے کفایت کرتا ہے، مثلا ایک انسان دو روٹیوں کی بھوک محسوس کر رہا ہے، لیکن ایک روٹی کا بنا ہوا ثرید اسے سیر کر سکتاہے۔ اسی طرح سحری کا کھانا بھیبابرکت چیز ہے۔ کھانے میں ”برکت“ کے معانی اس میں زیادہ خیر کے ہونے کے ہیں۔
سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْبَرَکَۃُ فِی ثَلَاثٍ: الْجَمَاعَاتِ وَالثَّرِیْدِ وَ السَّحُوْرِ۔)) ”تین چیزوں میں برکت ہے، جماعتوں میں، ثرید میں اور سحری کے کھانے میں۔“ (الشعب للبیہقي:۲/۴۲۶/۲، المعجم الکبیر، صحیحہ: ۱۰۴۵) روٹی کو چور کر شوربے میں بھگو کر بنائے ہوئے کھانے کو ثرید کہتے ہیں،یہ زود ہضم ہوتا ہے اور کھانے کی زیادہ مقدار سے کفایت کرتا ہے، مثلا ایک انسان دو روٹیوں کی بھوک محسوس کر رہا ہے، لیکن ایک روٹی کا بنا ہوا ثرید اسے سیر کر سکتاہے۔ اسی طرح سحری کا کھانا بھیبابرکت چیز ہے۔ کھانے میں ”برکت“ کے معانی اس میں زیادہ خیر کے ہونے کے ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابن ابي ليلي۔ اخرجه عبد الرزاق: 19571
حدیث نمبر: 3725
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ: ( (إِنَّهُ بَرَكَةٌ، أَعْطَاكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَدَعُوهُ) )
۔ ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری کاکھانا کھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ برکت والا کھانا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے، پس اس کو نہ چھوڑو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3725]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23501»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 145
حدیث نمبر: 3726
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: ( (هَلُمَّ إِلَى هَذَا الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ) )
۔ سیدناعرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان میں مجھے سحری کی دعوت دی اور فرمایا: اس بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3726]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بالشواھد۔ اخرجه ابوداود: 2344، والنسائي: 4/145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17273»
الحكم على الحديث: حديث حسن بالشواھد۔ اخرجه ابوداود: 2344
حدیث نمبر: 3727
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (السَّحُورُ أَكْلَةٌ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کا کھانا بابرکت ہے، اس لیے اس کو نہ چھوڑا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت کے نزول کی دعا کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3727]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11416»
وضاحت: فوائد: … عجیب بات ہے کہ بندہ کھانا کھا رہا ہے اور اس کھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت بھیج رہا ہے اور فرشتے اس پر نزولِ رحمت کی دعا کر رہے ہیں، دراصل یہ روزے کی برکات ہیں اور روزے سے متعلقہ ہر چیز میں برکت آ جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3728
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ) )
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو تو وہ کسی نہ کسی چیز کے ساتھ سحری کیا کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3728]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15013»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3729
عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ وَقَلَّمَا يُصِيبُ مِنَ الْعَشَاءِ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَكْثَرَ مَا كَانَ يُصِيبُ مِنَ السَّحَرِ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ فَصْلًا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ) )
۔ ابوقیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مسلسل روزے رکھا کرتے تھے، وہ شام کو رات کے ابتدائی حصہ میں کھانا کم ہی کھاتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ زیادہ تر سحری ہی کرتے تھے، میں نے ان سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3729]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1096، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17923»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر طبیعت کھانا کھانے پر آمادہ نہ ہو رہی ہو تو پھر بھی کھانے پینے کی معمولی مقدار استعمال کر کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 1096