الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ تَشْبِيْعِ الْغَازِي وَاسْتِقْبَالِهِ وَوَصِيَّةِ الإمامِ لَهُ
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4951
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَكْتُفَهُ عَلَى رَاحِلَةٍ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا) )
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑنے والے کو الوداع کہوں اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں اس کی مدد کروں، اس کی روانگی کے وقت یا اس کی واپسی کے وقت تو یہ مجھے دنیا و ما فیہا سے زیادہ پسند ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4951]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن ماجه: 2824، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15728»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4952
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَذْكُرُ مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف نکلا، ہم دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے کے لیے گئے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس آرہے تھے۔ سفیان راوی نے ایک بار کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آنا یاد ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک سے واپس لوٹے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4952]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3083، 4426، 4427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15812»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4953
قَالَ صَفْوَانُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، قَالَ: ( (سِيرُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، تُقَاتِلُونَ أَعْدَاءَ اللَّهِ، لَا تَغُلُّوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ عَلَى طُهُورٍ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ) )
۔ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا اور فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں چلو، اللہ کے دشمنوں سے لڑو، نہ خیانت کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو، مسافر تین دنوں تک اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے، جبکہ اس نے وضو کی حالت میں موزے پہنے ہوں اور مقیم ایک دن رات تک ان پر مسح کر سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4953]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 2857، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18266»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4954
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، ثُمَّ وَجَّهَهُمْ، وَقَالَ: ( (انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ) ) يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع الغرقد تک ان کے ساتھ چلے، پھر ان کو الوداع کہا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام پر چلو، اے اللہ! ان لوگوں کی مدد فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وہ لوگ تھے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4954]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 11554، والبزار: 1801، والحاكم: 2/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2391»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4955
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جُيُوشَهُ، قَالَ: ( (اخْرُجُوا بِسْمِ اللَّهِ، تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، لَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ) )
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو فرماتے: اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے اللہ کی راہ میں لڑو، نہ دھوکہ کرو، نہ خیانت کرو، نہ مثلہ کرو اور نہ بچوں اور گرجاگھروں والوں کو قتل کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4955]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 1677، والطبراني: 11562، والبيھقي: 9/ 90، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2728»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4956
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی لڑے تو وہ چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4956]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8556»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4957
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تلوار کو میان سے نکال کر پکڑا جائے (تاکہ کسی کو لگ نہ جائے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4957]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2588، والترمذي: 2163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14250»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4958
عَنْ حَشْرَجَ بْنِ زِيَادٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةِ خَيْبَرَ، وَأَنَا سَادِسَةُ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعَهُ نِسَاءً، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا (وَفِي لَفْظٍ: فَدَعَانَا قَالَتْ: فَرَأَيْنَا فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ) فَقَالَ: ( (مَا أَخْرَجَكُنَّ وَبِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟) ) فَقُلْنَا: خَرَجْنَا نُنَاوِلُ السِّهَامَ، وَنَسْقِي النَّاسَ السَّوِيقَ، وَمَعَنَا مَا نُدَاوِي بِهِ الْجَرْحَى، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ، وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: قُمْنَ فَانْصَرِفْنَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ، أَخْرَجَ لَنَا سِهَامًا كَسِهَامِ الرَّجُلِ (وَفِي لَفْظٍ: كَسِهَامِ الرِّجَالِ) قُلْتُ: يَا جَدَّةُ! مَا أَخْرَجَ لَكُنَّ قَالَتْ: تَمْرًا
۔ حشرج بن زیاد اشجعی اپنے دادی جان سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں غزوۂ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلی، جبکہ میں چھ خواتین میں سے چھٹی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں بھی جا رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بلایا، ہمیں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے تم کو نکالا ہے اور کس کے حکم سے تم نکلی ہو؟ ہم نے کہا: جی ہم خود نکلی ہیں، تاکہ مجاہدوں کو تیر پکڑا سکیں، لوگوں کو ستو پلا سکیں، ہم میں بعض خواتین زخمیوں کا علاج بھی کر سکتی ہیں اور بالوں کو بٹ کر اللہ کی راہ میں مدد کریں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور پیچھے ہٹ جاؤ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خیبر کو فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بھی مردوں کی طرح کا حصہ دیا، میں حشرج نے کہا: اے دادی جان! تمہیں حصے میں کیا دیا تھا؟ انھوں نے کہا: کھجور۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4958]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حشرج بن زياد، أخرجه أبوداود: 2729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22332 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22688»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4959
عَنْ رُبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَسْقِي الْقَوْمَ وَنَخْدُمُهُمْ، وَنَرُدُّ الْجَرْحَى وَالْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ
۔ سیدہ ربیع بنت ِ معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں، جس میں ہم لوگوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں اور زخمی لوگوں اور شہداء کو مدینہ منورہ میں منتقل کرتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4959]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2883، 5679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27557»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4960
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أُدَاوِي الْمَرْضَى، وَأَقُومُ عَلَى جَرَاحَاتِهِمْ، فَأُخَلِّفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، أَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ
۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی، میں مریضوں کا دوا دارو کرتی، زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی، مجاہدین کی رہائش گاہوں میں پیچھے رہتی اور ان کے لیے کھانا تیار کرتی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4960]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27843»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
الحكم على الحديث: صحیح