🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُ
سانڈا کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7298
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي يَعْنِي الضِّبَابَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمْ يُجَاوِزْ إِلَّا قَرِيبًا فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ فَعَاوَدَهُ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمُسِخُوا دَوَابَّ فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ بَعْضُهَا فَلَسْتُ بِآكِلِهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک دیہاتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے گھروالوں کا زیادہ ترکھانا سانڈے ہیں آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑا سے گزرے تو اس نے پھر یہی سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، جب اس نے تین بار یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک نسل پر لعنت و غضب کیا تھا اور وہ جانوروں کی صورت میں مسخ کر دیئے گئے تھے، بس اب میں نہیں جانتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی ان میں سے ہو، سو نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ میں اس کے کھانے سے منع کرتاہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7298]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11621»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1951
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7299
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ خَالَتُهُ فَقَدَّمَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ فَأَخْبَرْنَهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَتَرَكَهُ فَقَالَ خَالِدٌ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَهُ الْأَصَمُّ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے، یہ سیدنا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، سیدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بھنا ہوا سانڈے کا گوشت پیش کیا، جو کہ نجد سے سیدہ ام حفید بنت حارث رضی اللہ عنہا لے کر آئیں تھیں،یہ بنو جعفر کے ایک آدمی کی بیوی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو چیز بھی کھاتے تھے، پہلے اس کے بارے پوچھ لیا کرتے تھے، (جب سانڈے کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو) ایک بیوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتاؤ کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام نہیں ہے، بس یہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم میں پایا نہیں جاتا اور میں اس سے گھن محسوس کرتا ہوں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے وہ گوشت اپنی طرف کھینچ لیا اور کھانا شروع کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ابن شہاب کہتے ہیں: مجھ سے اصم نے بیان کیا ہے اور انہوں نے سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے یہ سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7299]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1946، وأخرج بنحوه البخاري: 5400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16935»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1946
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7300
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ وَقَالَ لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ ان قوموں میں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7300]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14514»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1949
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7301
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ قَالَ لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اس کو کھایا اور نہ اس سے منع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خود نہیں کھاتے،وہ ان کو بھی نہ کھلاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7301]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: لاتطعموھم مما لا تاكلون وھذا اسناد اختلف فيه علي حماد بن ابي سليمان، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 267، وابويعلي: 4461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25243»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: لاتطعموھم مما لا تاكلون وھذا اسناد اختلف فيه علي حماد بن ابي سليمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7302
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ قَالَ فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا قَالَ فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ وَفِي رِوَايَةٍ مُسِخَتْ وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هِيَ فَأَكْفِئُوهَا فَأَكْفَأْنَاهَا وَفِي رِوَايَةٍ فَأَكْفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم ایک علاقے میں اترے، وہاں سانڈے بہت زیادہ تھے، ہم نے ان کو حاصل کیا اور ذبح کیا اور پکانا شروع کر دیا، ہماری ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورفرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت گم پائی گئی، ایک روایت میں ہے کہ مسخ کی گئی، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ امت یہی سانڈے ہو، لہٰذا ہنڈیاں الٹ دو۔ پس ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، حالانکہ ہم سخت بھوک سے دو چار تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7302]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 1217، وابويعلي: 931، وابن حبان: 5266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17909»
وضاحت: فوائد: … ضَبّ (سانڈا)جنگلی چوہے کے مشابہ ایک جانور ہے، لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی مادہ کو ضَبّۃ کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں عموماً اس کا معنی گوہ کیا جاتا ہے، لیکن جو اوصاف ضب کے بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام سانڈے میں پائے جاتے ہیں، اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس سے مراد سانڈا ہے، گوہ نہیں، واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں