الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ كَرَاهَةِ الْأَكْلِ قَائِمًا وَمُتَّكِنًا
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
حدیث نمبر: 7392
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا قُلْتُ فَالْأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: اور کھانا؟ انھوں نے کہا: اس کا معاملہ تو اور سخت ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7392]
تخریج الحدیث: «أخرجه بذكر النھي عن الشرب قائما فقط مسلم: 2044، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12902»
وضاحت: فوائد: … کھانے کو پینے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کھڑے ہو کر کھانے کو جواز کی حد تک درست قرار دیا جا سکتا ہے، البتہ پینے کے بارے میں درج ذیل بحث ملاحظہ فرمائیں:
الحكم على الحديث: أخرجه بذكر النھي عن الشرب قائما فقط مسلم: 2044
حدیث نمبر: 7393
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا آكُلُ مُتَّكِئًا
۔ سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7393]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5398، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18971»
وضاحت: فوائد: … ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَأْکُلْ مُتَّکِئاً۔)) تو ٹیک لگا کر نہ کھا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5398
حدیث نمبر: 7394
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ فَجَعَلَ يُقْسِمُهُ بِمِكْتَلٍ وَاحِدٍ وَأَنَا رَسُولُهُ بِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَهُوَ مُقْعٍ أَكْلًا ذَرِيعًا فَعَرَفْتُ فِي أَكْلِهِ الْجُوعَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھجوروں کا ہدیہ دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ٹوکرے کی مدد سے ان کو تقسیم کرنا شروع کر دیا اور میں درمیان میں نمائندہ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم کرنے سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوریں کھائیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پنڈلیاں اٹھائے اور پشت زمین پر جمائے ہوئے بیٹھے تھے اور تیزی سے کھجوریں کھا رہے تھے، میں نے محسوس کیا کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7394]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه مختصرا مسلم: 2044، وابوداود: 3771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13132»
الحكم على الحديث: اسناده قوي
حدیث نمبر: 7395
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ پنڈلیاں کھڑے کئے ہوئے پشت زمین پر رکھے کھجوریں کھا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7395]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12891»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12891