🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ الْحَبُّ عَلَى تَعَلُّمِ الْقُرْآنِ وَتَعْلِيمِهِ وَحِفْظِهِ وَفَضْلٍ ذَلِكَ
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8328
عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُكُمْ وَفِي لَفْظٍ إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے افضل اور بہتر وہ شخص ہے، جو قرآن پاک سیکھتا ہے اور سکھاتاہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8328]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5028، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 500»
وضاحت: فوائد: … قرآنِ مجید وہ کلام ہے جسے جہانوں کے پالنہار نے ترتیب دیا، سیدالملائکہ جبریل علیہ السلام کے واسطے سے سید البشر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا۔ جیسے اللہ تعالی کی ہستی، ذات و صفات میںیکتا و یگانہ ہے، ایسے ہی اس کا کلام لاثانی، عدیم النظیر اور بے مثال ہے، یہ ربّ کریم کا وہ عظیم معجزہ ہے کہ گزشتہ سوا چودہ صدیوں میں کوئی بھی اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکی، جن بد باطن لوگوں نے ناکام کوشش کی، انہوں نے اپنے منہ پر تھوکا اور ان کے اِس بدنامِ زمانہ کردار سے قرآن پاک کے مقام و مرتبہ میں اضاہ ہو گیا۔
اس اعتبار سے یہ منفرد کلام ہے کہ جس کی تلاوت کرنے سے دلوں کو راحت و سکون نصیب ہو تا ہے، یہ اللہ تعالی کا بہت فضیلت والا ذکر ہے، انسانیت کی رشد وہدایت کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے بشریت کے نام آخری اور لازوال پیغام ہے، اس کی موافقت کرنے والادنیا و آخرت میںکامیاب وکامران ہوتا ہے اور اس کی مخالفت کرنے والا دونوں جہانوں میں رسوا و خوار ہوتا ہے۔
جہاں اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کی ضمانت دی، وہاں اس کو سرچشمۂ ہدایت و رشد بھی قرار دیا۔ اللہ تعالی نے ان دو عظیم بلکہ عظیم تر امور کو سرانجام دینے کے لیے قرآن مجید کے معلمین اور متعلمین کا انتخاب کیا۔ آج سے چودہ سو بیس (۱۴۲۰) برس پہلے قرآن مجید کے نزول کی تکمیل ہو چکی تھی، لیکن کیا مجال کہ قرآن کریم کی درس و تدریس کرنے والوں نے اس کتابِ عظیم کے زیر زبر میں فرق آنے دیا ہو۔
لیکن اس وقت کے لوگوں کی ترجیحات اور میلانات مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں اور عملی طور پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے، بچوں کو پڑھانے اور اس کا ترجمہ و تفسیر سیکھنے کی رغبت ختم ہو چکی ہے، الا ما شاء اللہ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8329
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےاسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8329]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 412»
وضاحت: فوائد: … بہرحال امت ِ مسلمہ کے نیک لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کے حکم سے گنہگاروں کے حق میں سفارش کریں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8330
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَفِي لَفْظٍ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمُ النَّارُ
۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پاک پڑھا، سیکھا اور اسے حفظ کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے اور اس کے گھر والوں میں سے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول کریں گے، جن کے حق میں دوزخ واجب ہو چکی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8330]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، لضعف حفص بن سليمان القاريئ، وجھالة كثير بن زاذان۔ أخرجه ابن ماجه: 216، والترمذي: 2905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1278»
وضاحت: فوائد: … دلوں کی آبادی ایمان اور تلاوت ِ قرآن سے ہے، جیسا گھروں کی آبادی سازو سامان اور حسن و جمال کے ساتھ ہے، سو جس دل میں قرآن نہیں ہے، وہ اس گھر کی طرح ہے، جو سامان سے خالی اور بے آباد پڑا ہو۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8331
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پیٹ میں قرآن مجید کا کوئی حصہ نہ ہو، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8331]
تخریج الحدیث: «ضعيف، لضعف قابوس۔ أخرجه الترمذي: 2913، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1947»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8332
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَلَمْ تَرَوْهُ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا بھلائی کے ساتھ ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے دیکھا نہیں کہ وہ قرآن سیکھتا ہے، (سو بہتر کیوں نہ ہو)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8332]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)24374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24878»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8333
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْقَهْ فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا:پڑھتا جا اور چڑھتا جا، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا، وہاں تیری منزل ہو گی۔امام اعمش کو راویٔ حدیث کے نام میں شک ہوا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8333]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 2915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10089»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی آیات کی تعداد جنت کے درجات کے برابر ہے، جس کو جتنی آیاتیاد ہوں گی، اس کو اتنے ہی درجے ملیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8334
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْقَ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا کہ تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس بیشک تیری منزل وہ ہو گی، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8334]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1464، والترمذي: 2914، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6799»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8335
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت صاحبِ قرآن سے کہاجائے گا،جب وہ جنت میں داخل ہوگا،پڑھتاجا اور اوپر چڑھتا جا، وہ پڑھتا جائے گا اور ہر آیت پر درجہ بدرجہ چڑھتا جائے گا،یہاں تک کہ آخر تک پہنچ جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8335]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3780، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11380»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8336
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَهُوَ حِبْرٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک سے پہلی سات سورتیں یاد کرے وہ ایک بڑا عالم ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8336]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 1/ 564، والبزار: 2327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24947»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت الأُوَل کے بجائے الطِّوَال کے الفاظ ہیں، ان سے مراد درج ذیل سات سورتیں ہیں:
(۱)سورۂ بقرہ، (۲)سورۂ آل عمران، (۳)سورۂ نسائ، (۴)سورۂ مائدہ، (۵)سورۂ انعام، (۶)سورۂ اعراف، (۷)سورۂ انفال، سورۂ توبہ (بعض اہل علم سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کو ایک سورت تسلیم کرتے ہیں)۔
قرآن مجید کے بیشتر، مفصل، فقہی اور اہم مسائل کا بیان پہلی سات سورتوں میں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8337
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ فَقِيلَ مَنْ أَهْلُ اللَّهِ مِنْهُمْ قَالَ أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اہل اللہ بھی موجود ہیں۔ کسی نے کہا:اہل اللہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے اللہ کااہل اور اس کے بندگان خاص ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8337]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12304»
وضاحت: فوائد: … اہلِ قرآن سے مراد وہ لوگ ہیں، جو قرآن مجید کو یاد کرتے ہیں، رات کی گھڑیوں میں اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی تعلیم و تعلّم کا بند و بست کرتے ہیں۔ اہل اللہ سے مراد اللہ تعالی کے اولیاء اور اس کے خاص لوگ ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں