صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب الأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِغْلاَقِ الأَبْوَابِ وَذِكْرِ اسْمِ اللَّهِ عَلَيْهَا وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ:
باب: سوتے وقت برتنوں کو ڈھانکنے، مشکیزوں کے منہ باندھنے، دروازوں کو بند کرنے،، چراغ بجھانے، بچوں اور جانوروں کو مغرب کے بعد باہر نہ نکلالنے کے استحباب کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2014 ترقیم شاملہ: -- 5256
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَإِنَّ فِي السَّنَةِ يَوْمًا يَنْزِلُ فِيهِ وَبَاءٌ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ، قَالَ اللَّيْثُ: فَالْأَعَاجِمُ عِنْدَنَا يَتَّقُونَ ذَلِكَ فِي كَانُونَ الْأَوَّلِ.
علی جہضمی نے کہا: ہمیں لیث بن سعد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انہوں نے اس (حدیث) میں یہ کہا: ”سال میں ایک ایسا دن ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔“ (علی نے) حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا: لیث نے کہا: ہمارے ہاں کے عجمی لوگ کانون اول (یعنی دسمبر) میں اس وبا سے بچتے ہیں (بچنے کے حیلے کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5256]
امام صاحب ایک اور استاد سے لیث بن سعد رحمہ اللہ ہی کی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، مگر اتنا فرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سال میں ایک دن ہے جس میں وبا اترتی ہے“ اور حدیث کے آخر میں یہ اضافہ ہے، لیث رحمہ اللہ نے کہا: ”عجمی لوگ اس کا اندیشہ کانونِ اول (دسمبر) میں رکھتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2015 ترقیم شاملہ: -- 5257
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ ".
سالم نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ”جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں (جلتی ہوئی) آگ نہ چھوڑا کرو (اسے پوری طرح بجھا دیا کرو۔)“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5257]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سوتے ہو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتی نہ چھوڑو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2015
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2016 ترقیم شاملہ: -- 5258
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ عَلَى أَهْلِهِ بِالْمَدِينَة مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: مدینہ میں ایک گھر اپنے رہنے والوں کے اوپر جل کر گرا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ جو ہے یہ تمہاری دشمن ہے۔ جب تم سونے لگو تو اس کو خود سے (ہٹانے کے لیے) بجھا دیا کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5258]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مدینہ میں ایک گھر اپنے اہل سمیت جل گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حال سے آگاہ کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ تو تمہاری دشمن ہے تو جب تم سونے لگو، اس کو بجھا دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5258]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2016
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة