صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ:
باب: سرکہ کی فضیلت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2051 ترقیم شاملہ: -- 5350
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نِعْمَ الْأُدُمُ أَوِ الْإِدَامُ الْخَلُّ ".
یحییٰ بن حسان نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سالنوں میں سے عمدہ یا (فرمایا) عمدہ سالن سرکہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5350]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین سالن، سرکہ ہے یا سالنوں میں سے بہترین سالن سرکہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5350]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2051
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2051 ترقیم شاملہ: -- 5351
وحَدَّثَنَاه مُوسَى بْنُ قُرَيْشِ بْنِ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ نِعْمَ الْأُدُمُ وَلَمْ يَشُكَّ.
یحییٰ بن صالح وحاظی نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کہا: ”سالنوں میں سے عمدہ“ اور شک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5351]
امام صاحب ایک اور استاد سے سلیمان بن بلال ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سالنوں میں سے بہترین سالن سرکہ ہے“ اس میں اُدُم یا بلاشک آیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5351]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2051
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2052 ترقیم شاملہ: -- 5352
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدُمَ، فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ، فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ، وَيَقُولُ: " نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ ".
ابوبشر نے ابوسفیان (طلحہ بن نافع) سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے آپ نے سرکہ منگوایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھانا شروع کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہے: ”سرکہ عمدہ سالن ہے سرکہ عمدہ سالن ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5352]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے، آپ نے اسے ہی منگوا لیا اور اس کے ساتھ روٹی کھانے لگے اور فرماتے: ”سرکہ بہترین سالن ہے، بہترین سالن سرکہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5352]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2052
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2052 ترقیم شاملہ: -- 5353
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ، فَقَالَ: " مَا مِنْ أُدُمٍ؟ "، فَقَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ: " فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدُمُ "، قَالَ جَابِرٌ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ طَلْحَةُ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ جَابِرٍ،
اسماعیل بن علیہ نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی کہا: مجھے طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تو خادم آپ کے لیے روٹی کے کچھ ٹکڑے نکال کر لایا آپ نے پوچھا: ”کوئی سالن نہیں ہے؟“ اس نے کہا: تھوڑا سا سرکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ سرکہ عمدہ سالن ہے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے میں سرکہ پسند کرتا ہوں اور طلحہ (راوی) نے کہا: جب سے میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے میں بھی سرکہ کو پسند کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5353]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور اسے روٹی کے ٹکڑے پیش کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کوئی سالن ہے؟“ گھر والوں نے کہا: تھوڑے سے سرکہ کے سوا کچھ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ بہترین سالن ہے۔“ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہی: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے، میں سرکہ کو پسند رکھتا ہوں، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، جب سے میں نے یہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے، میں سرکہ کو پسند رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2052
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2052 ترقیم شاملہ: -- 5354
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَى قَوْلِهِ فَنِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
نصر کے والد علی جہضمی نے کہا: ہمیں مثنیٰ بن سعید نے طلحہ بن نافع سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”سرکہ عمدہ سالن ہے“ تک ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5354]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث ہے اور اس میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تک حدیث ہے ”سرکہ بہترین سالن ہے۔“ بعد والا حصہ نہیں، جابر و طلحہ کا قول بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5354]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2052
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2052 ترقیم شاملہ: -- 5355
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي دَارِي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ الْحِجَابَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟ "، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ فَوُضِعْنَ عَلَى نَبِيٍّ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَخَذَ قُرْصًا آخَرَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ثُمَّ أَخَذَ الثَّالِثَ فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ، فَجَعَلَ نِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ مِنْ أُدُمٍ؟ "، قَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ: " هَاتُوهُ فَنِعْمَ الْأُدُمُ هُوَ ".
حجاج بن ابی زینب نے کہا: مجھے ابوسفیان طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں کسی گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا، آپ نے میری طرف اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجروں میں سے کسی کے حجرے پر آئے اور اندر داخل ہو گئے پھر مجھے بھی آنے کی اجازت دی میں (حجرہ انور میں) ان کے حجاب کے عالم میں داخل ہوا آپ نے فرمایا: ”کچھ کھانے کو ہے؟“ گھر والوں نے کہا: ہے اور تین روٹیاں لائی گئیں اور ان کو ایک اونی رومال (دستر خوان) پر رکھ دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے تیسری کے دو ٹکڑے کیے، آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے پوچھا: ”کوئی سالن بھی ہے؟“ گھر والوں نے کہا: تھوڑا سا سرکہ ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے آؤ سرکہ کیا خوب سالن ہے!“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5355]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ فرمایا تو میں اٹھ کر آپ کے پاس چلا گیا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم چل پڑے، حتی کہ آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کے حجرہ کے پاس پہنچ گئے تو اندر داخل ہو گئے، پھر آپ نے مجھے اجازت دی اور میں پردہ کی حالت میں ان کے پاس پہنچ گیا، آپ نے پوچھا: ”کیا صبح کا کھانا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ کو تین روٹیاں پیش کی گئیں اور انہیں ایک دسترخوان پر رکھ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی پکڑ کر اپنے آگے رکھ لی اور دوسری روٹی پکڑ کر میرے آگے رکھ دی، پھر تیسری روٹی پکڑ کر اس کے دو حصے کیے اور اس کا آدھا حصہ اپنے آگے رکھ لیا اور آدھا حصہ میرے آگے رکھ دیا، پھر پوچھا: ”کوئی سالن ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، مگر تھوڑا سرکہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لاؤ، وہ تو بہترین سالن ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5355]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2052
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة