یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب فضيلة الخل والتادم به:
باب: سرکہ کی فضیلت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2051 ترقیم شاملہ: -- 5350
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نِعْمَ الْأُدُمُ أَوِ الْإِدَامُ الْخَلُّ ".
یحییٰ بن حسان نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سالنوں میں سے عمدہ یا (فرمایا) عمدہ سالن سرکہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5350]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین سالن، سرکہ ہے یا سالنوں میں سے بہترین سالن سرکہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5350]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2051
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5350
| نعم الأدم أو الإدام الخل |
جامع الترمذي |
1841
| نعم الإدام الخل |
سنن ابن ماجه |
3316
| نعم الإدام الخل |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5350 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5350
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
اِدام:
کی جمع ادم ہے،
جس طرح كتاب کی جمع كتب ہے۔
مفردات الحدیث:
اِدام:
کی جمع ادم ہے،
جس طرح كتاب کی جمع كتب ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5350]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1841
سرکہ کا بیان۔
ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1841]
ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1841]
اردو حاشہ:
(سند میں ابوحمزہ،
ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں،
لیکن مسند احمد (3/353)میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے،
الصحیحۃ: 2220)
(سند میں ابوحمزہ،
ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں،
لیکن مسند احمد (3/353)میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے،
الصحیحۃ: 2220)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1841]
Sahih Muslim Hadith 5350 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق