صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ وَتَحْرِيمِ اتِّخَاذِ مَا فِيهِ صُورَةٌ غَيْرُ مُمْتَهَنَةٍ بِالْفَرْشِ وَنَحْوِهِ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام لَا يَدْخُلُونَ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5521
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ، وَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَوِّلِي هَذَا، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا "، قَالَتْ: وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا.
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس میں پرندے کی تصویر تھی، جب کوئی شخص اندر آتا یہ تصویر اس کے سامنے آ جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس پردے کو ہٹا دو کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں اور اس پردے کو دیکھتا ہوں تو دنیا کو یاد کرتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس ایک چادر تھی، ہم کہتے تھے کہ اس کے کناروں پر سلا ہوا کپڑا ریشم ہے، ہم اس چادر کو پہنتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5521]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ہمارا ایک پردہ تھا، جس میں پرندے کی شبیہ تھی اور داخل ہونے والے کی نظر سب سے پہلے اس پر پڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اس کو یہاں سے ہٹا دو، کیونکہ میں جب داخل ہوتا ہوں اور اس پر میری نظر پڑتی ہے، مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔“ وہ بیان کرتی ہیں اور ہمارے پاس ایک چادر تھی، ہم کہتے تھے، اس کے نقش و نگار ریشمی ہوں اور ہم اس کو پہنتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5521]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5522
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَزَادَ فِيهِ يُرِيدُ عَبْدَ الْأَعْلَى، فَلَمْ يَأْمُرْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهِ.
محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے اسی سند کے ساتھ (داود سے) حدیث بیان کی، ابن مثنیٰ نے کہا: اور اس میں انہوں نے۔۔۔ ان کی مراد عبدالاعلیٰ سے ہے۔ یہ اضافہ کیا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چادر کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5522]
امام صاحب یہی حدیث ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چادر کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5522]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5523
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَّرْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ ذَوَاتُ الْأَجْنِحَةِ، فَأَمَرَنِي فَنَزَعْتُهُ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوںژه اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے، میں نے روئیں دار کپڑا دروازے کا پردہ بنایا ہوا تھا جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں تو آپ نے مجھے (اتارنے کا) حکم دیا تو میں نے اس کو اتار دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5523]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے اور میں اپنے دروازے پر ایک پردہ ڈال چکی تھی، جس میں پروں والے گھوڑے کی شبیہ تھی تو آپ نے مجھے اس کے اتارنے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5523]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5524
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدَةَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ.
عبدہ اور وکیع نے اسی سند کے ساتھ ہمیں (ہشام بن عروہ سے) حدیث بیان کی، عبدہ کی حدیث میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5524]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اور عبدہ کی حدیث میں سفر سے واپسی کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5524]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5525
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ ".
ابراہیم بن سعد نے زہری سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک موٹے سے کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا، اس پر تصویر تھی تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ نے پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے لوگوں میں سے وہ (بھی) ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی (جاندار) اشیاء کے جیسی (مشابہ) بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5525]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک باریک پردہ تانا ہوا تھا، جس میں تصویر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پردہ کو پکڑ کو چاک کر دیا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن جو لوگ سب سے سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ان میں وہ لوگ جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5525]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5526
وحدثني حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، (آگے اسی طرح) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے، البتہ انہوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (پردے) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5526]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث ہے، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کی طرف جھکے اور اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5526]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5527
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا لَمْ يَذْكُرَا مِنْ.
سفیان بن عیینہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان دونوں کی حدیث میں ہے: (لوگوں میں سے شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے وہ لوگ ہوں گے) انہوں نے (میں سے) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5527]
مصنف یہی روایت اپنے پانچ اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں أشد الناس [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5527]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5528
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ، وَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَطَعْنَاهُ، فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہہ رہی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے طاق پر موٹا سا کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب آپ نے اس کے پردے کو دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا آپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ”عائشہ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شدید عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کریں گے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے اس پردے کو کاٹ دیا اور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے (ایک یا دو کے بارے میں شک راوی کی طرف سے ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5528]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے ایک طاق یا مچان پر ایسا پردہ ڈالا ہوا تھا، جس میں تصاویر تھیں تو جب آپ نے اسے دیکھا، اسے پھاڑ دیا اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! قیامت کے دن اللہ کے ہاں، سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا، جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت اختیار کرتے ہیں“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ہم نے اس کو پھاڑ کر، اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5528]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5529
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَخِّرِيهِ عَنِّي "، قَالَتْ: فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مجھ سے ہٹا دو۔“ تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اس کے تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5529]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا، جس میں تصویریں تھیں، اسے طاق پر لٹکایا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مجھ سے دور کر دیجئے“ تو میں نے اس کو ہٹا کر اس کے تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5529]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2107 ترقیم شاملہ: -- 5530
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سعید بن عامر اور ابوعامر عقدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5530]
امام صاحب یہی روایت اور اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5530]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2107
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة