صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ الشُّؤْمُ:
باب: بدفال اور نیک فال کا بیان اور کن چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2223 ترقیم شاملہ: -- 5798
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ "، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفَأْلُ، قَالَ: " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں اور شگون میں سے اچھی نیک فال ہے۔“ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! فال کیا ہے؟ (وہ شگون سے کس طرح مختلف ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(فال) نیک کلمہ ہے تو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5798]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ” «طِيَرَةٌ» (بدشگونی) کی کوئی حقیقت نہیں، نیک شگون اچھی چیز ہے۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! نیک شگون (فال) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بول، جو تم میں سے کوئی سنتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5798]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2223
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2223 ترقیم شاملہ: -- 5799
وحدثني عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ عُقَيْل ٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَالَ مَعْمَرٌ.
عقیل بن خالد اور شعیب دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ عقیل کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، انہوں نے ”میں نے سنا“ کے الفاظ نہیں کہے اور شعیب کی حدیث میں ہے۔ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔“ جس طرح معمر نے کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5799]
امام صاحب کو یہی روایت ان کے دو اور اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5799]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2223
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2224 ترقیم شاملہ: -- 5800
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ".
ہمام بن یحییٰ نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگتا، برے شگون کی کوئی حقیقت نہیں اور (اس کے بالمقابل) نیک فال یعنی حوصلہ افزائی کا اچھا کلمہ پاکیزہ بات مجھے اچھی لگتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5800]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متعدی بیماری اور بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور مجھے نیک شگون پسند ہے، جو اچھے بول اور پسندیدہ بات سے لیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5800]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2224 ترقیم شاملہ: -- 5801
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ "، قَالَ، قِيلَ: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ".
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگتا، برا شگون کی کوئی چیز نہیں اور مجھے نیک فال اچھی لگتی ہے۔”کہا آپ سے عرض کی گئی: نیک فال کیا ہے؟ فرمایا:”پاکیزہ کلمہ (دعا یا حوصلہ افزائی یا دانائی پر مبنی کوئی جملہ)۔” [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5801]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی متعدی بیماری نہیں، نہ بدشگونی اور بدفالی ہے اور نیک شگون کو پسند کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: نیک فال، اچھا شگون کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاکیزہ بول سے پیدا ہونے والا اچھا خیال۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5801]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2224
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2223 ترقیم شاملہ: -- 5802
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ عَتِيقٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ ".
یحییٰ بن عتیق نے کہا: ہمیں محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی پر لازمی طور پر بیماری لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں، بد شگونی کوئی شے نہیں اور میں اچھی فال کو پسند کرتا ہوں۔” [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5802]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی متعدی بیماری نہیں، نہ بدفالی ہے اور میں اچھا فال پسند کرتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5802]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2223
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2223 ترقیم شاملہ: -- 5803
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ ".
ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”لازمی طور پر خود بخود کسی سے بیماری لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں، کھوپڑی سے الو نکلنا کوئی چیز نہیں، بد شگونی کچھ نہیں اور میں نیک فال کو پسند کرتا ہوں۔” [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5803]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں اور نہ الو کی کوئی حقیقت ہے اور نہ برا شگون ہے اور میں اچھا، نیک شگون پسند کرتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5803]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2223
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5804
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”عدم موافقت (ناسازگاری) گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔” [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5804]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہوتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5804]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5805
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا اور بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔ ناموافقت تین چیزوں میں ہوتی ہے: عورت، گھوڑے اور گھر میں۔” [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5805]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہے اور نہ ہی برا شگون ہے، نحوست صرف تین چیزوں میں ہے: عورت، گھوڑا اور گھر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5805]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5806
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابني عبد الله، عَنْ أَبِيهِمَا ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِى ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ . وحَدَّثَنِي ح عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّؤْمِ بمثل حديث مَالِكٍ لَا يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَى وَالطِّيَرَةَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
سفیان، صالح، عقیل، بن خالد، عبدالرحمن بن اسحاق اور شعیب، ان سب نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے ناموافقت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا، یونس بن یزید کے علاوہ ان میں سے کسی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ”کسی بیماری کے خود بخود کسی دوسرے کو لگ جانے اور بد شگونی“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5806]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5807
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہونا برحق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہے۔” [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5807]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نحوست میں کچھ حقیقت ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5807]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة