صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ:
باب: بہتر خوشبو مشک کا بیان اور خوشبو کو پھیر دینے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2252 ترقیم شاملہ: -- 5881
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ، ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا، وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ، فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ، فَلَمْ يَعْرِفُوهَا، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا "، وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ.
ابواسامہ نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے خلید بن جعفر نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”بنی اسرائیل میں ایک پستہ قد عورت دو لمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں (ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا) بنوائیں اور سونے کی ایک بند، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سے اچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں (لمبی عورتوں) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔“اور شعبہ نے (شاگردوں کو دکھانے کے لیے) اپنا ہاتھ جھٹکا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5881]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں ایک پستہ قد عورت تھی، وہ دو لمبی عورتوں کے ساتھ چلتی تھی، اس لیے اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں بنوائیں اور سونے کی خول دار انگوٹھی بنوائی، جو بند ہوتی تھی، پھر اس کے اندر کستوری بھری اور وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے، تو وہ ان دو عورتوں کے درمیان سے گزری تو انہوں نے اسے پہچانا نہیں، تو اس نے اپنا ہاتھ جھٹکایا۔“ شعبہ نے اپنا ہاتھ جھاڑا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5881]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2252 ترقیم شاملہ: -- 5882
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَالْمُسْتَمِرِّ ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا، وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ.
یزید بن ہارون نے شعبہ سے، انہوں نے خلید بن جعفر اور مستمر سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: ہم نے ابونضرہ کو سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا ذکر کیا، اس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھر لی تھی اور کستوری سب سے اچھی خوشبو ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5882]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا تذکرہ کیا: ”جس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھری اور کستوری سب سے عمدہ خوشبو ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2252
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2253 ترقیم شاملہ: -- 5883
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْمُقْرِئِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ ".
عبدالرحمٰن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص کو ریحان (خوشبو دار پھول یا ٹہنی) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھانے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5883]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو خوشبودار پھول دیا جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے، کیونکہ اس کو اٹھانا یا اس کا عطیہ دینا آسان ہے اور اس کی بو عمدہ اور پاکیزہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5883]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2253
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2254 ترقیم شاملہ: -- 5884
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَبُو طَاهِرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: " كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ، اسْتَجْمَرَ بِالْأَلُوَّةِ غَيْرَ مُطَرَّاةٍ، وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
نافع نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب خوشبو کا دھواں لیتے تو عود کا دھواں لیتے، اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہوتی اور کافور کا دھواں لیتے۔ اس میں کچھ عود ملا لیتے، پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خوشبو کا دھواں لیتے (اور کپڑوں میں بساتے) تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5884]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب خوشبو کی دھونی لیتے تو «أَلُوَّة» ”خالص عود“ کی دھونی لیتے تھے جس میں کوئی دوسری چیز نہیں ملی ہوتی تھی، یا کافور کے ساتھ «أَلُوَّة» کی دھونی لیتے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح دھونی لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا/حدیث: 5884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2254
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة