صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ وَصِفَتِهِ وَمَحِلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: مہر نبوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2344 ترقیم شاملہ: -- 6084
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ، وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ، قَالَ: لَا، بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَكَانَ مُسْتَدِيرًا، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ، مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ، يُشْبِهُ جَسَدَهُ ".
اسرائیل نے سماک سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی کا آگے کا حصہ سفید ہو گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل ڈالتے تو سفیدی معلوم نہیں ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی بہت گھنی تھی۔ ایک شخص بولا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح یعنی لمبا تھا؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سورج اور چاند کی طرح گول تھا اور میں نے نبوت کی مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھی جیسے کبوتر کا انڈا ہوتا ہے اور اس کا رنگ جسم کے رنگ سے ملتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6084]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی کے اگلےبال سفید ہو گئے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل لگا لیتے تو وہ واضح نہیں ہوتے تھے، اور جب آپ کا سر پراگندہ ہوتا، نظر آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کے بال بہت تھے ایک آدمی نے پوچھا: آپ کا چہرہ تلوار جیسا تھا؟ یعنی لمبا چمکدار تھا، کہا نہیں، بلکہ آفاب و مہتاب جیسا تھا، گول تھا اور روشن تھا اور میں نے آپ کے کندھے کے پاس کبوتری کے انڈے جیسی مہردیکھی، جو آپ کے جسم کے مشابہ تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2344 ترقیم شاملہ: -- 6085
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ خَاتَمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ ".
شعبہ نے سماک سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی، جیسے وہ کبوتری کا انڈا ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6085]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پُشت پر مہر دیکھی گویا کہ وہ کبوتری کا انڈا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2344 ترقیم شاملہ: -- 6086
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
حسن بن صالح نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6086]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2345 ترقیم شاملہ: -- 6087
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ ".
جعد بن عبدالرحمان نے کہا: میں نے حضرت سائب بن یزید سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میرا بھانجا بہت بیمار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی۔ پھر وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوا تو مجھے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان آپ کی مہر (نبوت) مسہری کے لٹو کی طرح نظر آئی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6087]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا، اے اللہ کے رسول! میرے بھانجے کو تکلیف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی پیا، پھر میں آپ کی پشت کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان، آپ کی مہر دیکھی، جو ڈولی کے بٹن جیسی تھی یا ہنس کے انڈے جیسی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2345
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2346 ترقیم شاملہ: -- 6088
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ . ح وحَدَّثَنِي وَاللَّفْظُ لَهُ، حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا، وَلَحْمًا، أَوَ قَالَ: ثَرِيدًا، قَالَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَسْتَغْفَرَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة محمد آية 19، قَالَ: ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ، كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ ".
عاصم احول نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور میں نے آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت یا کہا: ثرید کھایا تھا، (عاصم نے) کہا: میں نے ان (عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے دعائے مغفرت کی تھی، انہوں نے کہا: ہاں، اور تمہارے لیے بھی، پھر یہ آیت پڑھی، ”اور اپنے گناہ کے لیے استغفار کیجیے اور ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کے لیے بھی۔“ کہا: پھر میں گھوم کر آپ کے پیچھے ہوا تو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، آپ کے بائیں شانے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی طرح، اس پر خال (تل) تھے جس طرح جلد پر آغاز شباب کے کالے نشان ہوتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6088]
امام اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی یا کہا ثرید کھایا تو میں نے حضرت عبداللہ سے پوچھا، کیا آپ کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے مغفرت کی تھی، انہوں نے کہا، ہاں اور تیرے لیے بھی، پھر یہ آیت سنائی، ”اپنے لیے مغفرت کی دعا کیجئے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے“، [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2346
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة