صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
38. باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ:
باب: احکام شرعیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار۔
ترقیم عبدالباقی: 2361 ترقیم شاملہ: -- 6126
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ، يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الْأُنْثَى، فَيَلْقَحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا، قَالَ: فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ، فَتَرَكُوهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ، فَلْيَصْنَعُوهُ، فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا، فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا، فَخُذُوا بِهِ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ ".
موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا جو درختوں کی چوٹیوں پر چڑھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ گابھہ لگا رہے ہیں نر (کھجور کا بور) مادہ (کھجور) میں ڈال رہے ہیں اس طرح یہ (درخت) ثمر آور ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا گمان نہیں کہ اس کا کچھ فائدہ ہو تا ہے۔“ لوگوں کو یہ بات بتا دی گئی تو انہوں نے (گابھہ لگانے کا) یہ عمل ترک کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی۔ تو آپ نے فرمایا: ”اگر یہ کام انہیں فائدہ پہنچاتا ہے تو کریں۔ میں نے تو ایک بات کا گمان کیا تھا تو گمان کے حوالے سے مجھے ذمہ دار نہ ٹھہراؤ لیکن جب میں اللہ کی طرف سے تمھارے ساتھ بات کروں تو اسے اپنا لو، کیونکہ اللہ عزوجل پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6126]
موسیٰ بن طلحہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں کے پاس سے گزرا، جو کھجور کے دوختوں پر تھے تو آپ نے پوچھا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔“ لوگوں نے کہا، کھجوروں میں پیوند لگا رہے ہیں، نر کھجور کو مادہ کھجور کے ساتھ ملاتے ہیں، جس سے وہ بار آور ہو جاتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا کہ اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہو۔“ لوگو ں کو آپ کی بات کی خبر دی گئی توانہوں نے یہ کام ترک کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے اس عمل کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ عمل انہیں فائدہ پہنچاتا ہے تو اسے عمل میں لائیں، میں نے تو بس، ایک خیال و گمان کیا تھا، تم میرے گمان پر عمل نہ کرو، لیکن جب میں تمہیں اللہ کی طرف سے کچھ بتاؤں تو اس کو اختیار کرو، کیونکہ میں اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کرتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2361
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2362 ترقیم شاملہ: -- 6127
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: " قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ، يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ: مَا تَصْنَعُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ، قَالَ: لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا، فَتَرَكُوهُ، فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ، قَالَ: فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ، فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيٍ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ "، قَالَ عِكْرِمَةُ: أَوْ نَحْوَ هَذَا، قَالَ الْمَعْقِرِيُّ: فَنَفَضَتْ، وَلَمْ يَشُكَّ.
عبداللہ بن رومی یمامی، عباس بن عبدالعظیم عنبری اور احمد بن جعفر معقری نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں نضر بن محمد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابونجاشی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو (وہاں کے) لوگ کھجوروں میں قلم لگاتے تھے، وہ کہا کرتے تھے (کہ) وہ گابھہ لگاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیا کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم یہ کام کرتے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم لوگ یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو۔“ اس پر ان لوگوں نے (ایسا کرنا) چھوڑ دیا، تو ان کا پھل گر گیا یا (کہا) کم ہوا۔ کہا: لوگوں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا: ”میں ایک بشر ہی تو ہوں، جب میں تمھیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور جب میں تمھیں محض اپنی رائے سے کچھ کرنے کو کہوں تو میں بشر ہی تو ہوں۔“ عکرمہ نے (شک انداز میں) کہا: یا اسی کے مانند (کچھ فرمایا۔) معقری نے شک نہیں کیا، انہوں نے کہا: تو ان کا پھل گر گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6127]
حضرت نافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ نر کھجوروں کا بور مادہ کھجوروں کے اوپر ڈالتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”تم کیا کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا، ہم پہلے سے کرتے آرہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”شاید، اگر تم یہ عمل نہ کرو تو بہتر ہو۔“ انہوں نے اسے چھوڑ دیا تو وہ جھڑ گئیں، صحابہ کرام نے اس کا تذکرہ آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں صرف بشر ہوں۔“جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کچھ کہوں تے اس کو اختیار کرو، اس پر عمل پیرا ہو، اور جب میں تمہیں محض اپنی سوچ سے کہوں تو میں بس بشر ہوں۔“ عکرمہ کہتے ہیں، استاد کا یہی مفہوم تھا، مقبری کی روایت میں بغیر شک کے ہے، وہ جھڑ گئیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2362
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2363 ترقیم شاملہ: -- 6128
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ، قَالَ: فَخَرَجَ شِيصًا، فَمَرَّ بِهِمْ، فَقَالَ: مَا لِنَخْلِكُمْ، قَالُوا: قُلْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ".
حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اور حماد ہی نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں گابھہ لگا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم یہ نہ کرو تو (بھی) ٹھیک رہے گا۔“ کہا: اس کے بعد گٹھلیوں کے بغیر روی کھجوریں پیدا ہوئیں، پھر کچھ دنوں کے بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”تمھاری کھجوریں کیسی رہیں؟“ انہوں نے کہا: آپ نے اس طرح فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جاننے والے ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6128]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جوکھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ عمل نہ کرو تو اچھا ہوگا۔“ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، اس (عمل کے ترک) سے ردی کھجوری پیدا ہوئیں، سو آپ ان کے پاس سے گزرے اور پوچھا: ”تمہاری کھجوروں کو کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا، آپ نے یہ یہ فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دنیوی معاملات سے خو ب آگاہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة