یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
38. باب وجوب امتثال ما قاله شرعا دون ما ذكره صلى الله عليه وسلم من معايش الدنيا على سبيل الراي:
باب: احکام شرعیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار۔
ترقیم عبدالباقی: 2363 ترقیم شاملہ: -- 6128
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ، قَالَ: فَخَرَجَ شِيصًا، فَمَرَّ بِهِمْ، فَقَالَ: مَا لِنَخْلِكُمْ، قَالُوا: قُلْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ".
حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اور حماد ہی نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں گابھہ لگا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم یہ نہ کرو تو (بھی) ٹھیک رہے گا۔“ کہا: اس کے بعد گٹھلیوں کے بغیر روی کھجوریں پیدا ہوئیں، پھر کچھ دنوں کے بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”تمھاری کھجوریں کیسی رہیں؟“ انہوں نے کہا: آپ نے اس طرح فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جاننے والے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6128]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جوکھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ عمل نہ کرو تو اچھا ہوگا۔“ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، اس (عمل کے ترک) سے ردی کھجوری پیدا ہوئیں، سو آپ ان کے پاس سے گزرے اور پوچھا: ”تمہاری کھجوروں کو کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا، آپ نے یہ یہ فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دنیوی معاملات سے خو ب آگاہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6128 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6128
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
شيص:
نکمی اور ردی کھجور۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
وہ دنیوی معاملات،
جن کا تعلق تجربہ سے ہے اور شریعت نے ان کے بارے میں کوئی قطعی یا یقینی حکم نہیں دیا،
اس کو لوگوں کے تجربات اور مشاہدات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اپنے تجربہ میں عمل پیرا ہوں۔
اس کا یہ معنی نہیں ہے جن دنیوی امور کے بارے میں آپ قطعی حکم صادر فرمائیں ان میں بھی اپنے تجربہ کو ترجیح دی جائے گی۔
مفردات الحدیث:
شيص:
نکمی اور ردی کھجور۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
وہ دنیوی معاملات،
جن کا تعلق تجربہ سے ہے اور شریعت نے ان کے بارے میں کوئی قطعی یا یقینی حکم نہیں دیا،
اس کو لوگوں کے تجربات اور مشاہدات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اپنے تجربہ میں عمل پیرا ہوں۔
اس کا یہ معنی نہیں ہے جن دنیوی امور کے بارے میں آپ قطعی حکم صادر فرمائیں ان میں بھی اپنے تجربہ کو ترجیح دی جائے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6128]
Sahih Muslim Hadith 6128 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري