سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
31. بَابُ الرَّجُلِ يُوصِي لِلرَّجُلِ فَيَمُوتُ الْمُوصَى لَهُ
جس شخص کے لیے وصیت کی گئی ہو اس کی موت کا حکم
ترقیم دار السلفیہ: 377 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1554
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا.
ابن سیرین رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 377، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31457»
ترقیم دار السلفیہ: 378 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1555
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ , أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْوَصِيَّةِ لِذِي قَرَابَتِهِ، فَقِيلَ لَهُ: وَإِنْ كَانُوا أَغْنِيَاءَ؟ قَالَ:" إِنَّ غَنَاءَهُمْ لا يَمْنَعُهُمْ مِنَ الْحَقِّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَهُمْ" .
حسن بصری رحمہ اللہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا امیر لوگوں کے قریبیوں کے لئے بھی وصیت کرنی چاہیے؟ تو فرمایا: ”ان کی دولت ان کے اس حق سے نہیں روکتی جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3307، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 378»
ترقیم دار السلفیہ: 379 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1556
نا هُشَيْمٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يُوصِ لِذِي قَرَابَتِهِ فَقَدْ خَتَمَ عَمَلَهُ بِمَعْصِيَةٍ" .
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو اپنے قریبیوں کے لئے وصیت نہیں کرتا اس نے اپنے عمل کا اختتام معصیت پر کیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 356، 379»
ترقیم دار السلفیہ: 380 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1557
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: " لَوْ كُنْتُ وَالِيًا فَأُتِيتُ بِرَجُلٍ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَتِهِ , رَدَدْتُ ذَلِكَ وَلَوْ بُنِيَتْ بِهِ الدُّورُ , وَاتُّخِذَتْ بِهِ الأَمْوَالُ" .
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر میں حکمران ہوتا اور میرے پاس کوئی غیر قریبی کے لئے وصیت لے کر آتا تو میں اسے رد کر دیتا چاہے اس سے محلات بنائے جاتے یا مال جمع ہوتا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 357، 380»
ترقیم دار السلفیہ: 381 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1558
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِنِصْفِ مَالِهِ، وَثُلُثِ مَالِهِ، وَرُبُعِ مَالِهِ؟ قُلْتُ: لا يَجُوزُ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ قَدْ أَجَازُوا، قُلْتُ: لا أَدْرِي، قَالَ:" أَمْسَكَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ فَأَخْرَجَ نِصْفَهَا سِتَّةً، وَثُلُثَهَا أَرْبَعَةً، وَرُبُعَهَا ثَلاثَةً , فَأَقْسَمَ الْمَالَ عَلَى ثَلاثَةَ عَشَرَ فَلِصَاحِبِ النِّصْفِ سِتَّةٌ، وَلِصَاحِبِ الثُّلُثِ أَرْبَعَةٌ، وَلِصَاحِبِ الرُّبُعِ ثَلاثَةٌ" .
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے اپنے مال کے نصف، تہائی اور چوتھائی کی وصیت کی تو بارہ درہم فرض کیے جائیں، ان کا نصف چھ درہم، تہائی چار درہم اور چوتھائی تین درہم ہوں گے، پھر مال کو تیرہ حصوں پر تقسیم کیا جائے، پس نصف والے کو چھ، تہائی والے کو چار اور چوتھائی والے کو تین حصے دیے جائیں گے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 381، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12717، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31439»