🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

84. بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ
رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 994 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2171
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَأنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا شَهِدَتْ عَلَى رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، قَالَ مَرَّةً:" إِنْ كَانَتْ مَرْضِيَّةً" , وَقَالَ مَرَّةً: " إِنْ كَانَتْ عَدْلا اسْتُحْلِفَتْ بِاللَّهِ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَإِنْ حَلَفَتْ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا" . قَالَ هُشَيْمٌ: وَلا يُؤْخَذُ بِهِ.
یونس اور منصور نے حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کی کہ جب ایک عورت کسی مرد اور اس کی بیوی کے بارے میں گواہی دے کہ اس نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو حسن بصری رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ فرمایا: ”اگر وہ معتبر ہو۔“ اور دوسری مرتبہ فرمایا: ”اگر وہ عادل ہو تو اس سے اللہ کی قسم لی جائے کہ اس نے انہیں دودھ پلایا ہے، اگر وہ قسم اٹھا لے تو ان دونوں کے درمیان جدائی کر دی جائے۔“ ہشیم نے کہا: ”ہم اس پر عمل نہیں کرتے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 995 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2172
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ ," أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَسْتَرْضِعَ الرَّجُلُ لِوَلَدِهِ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ وَالْفَاجِرَةَ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”آدمی اپنے بچے کے لیے یہودیہ، نصرانیہ اور فاجرہ (بری عورت) سے دودھ پلوا سکتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2172]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 995، 2297»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 996 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2173
نا هُشَيْمٌ، أنا مُخْبِرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْفَاجِرَةَ.
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح روایت ہے، البتہ انہوں نے فاجرہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 996، 2298»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 997 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2174
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ , أُرَاهُ , عِتْوَارِيًّا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: أَمِنْ بَنِي فُلانٍ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لا، وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي. قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّبَنَ يُشْتَبَهُ عَلَيْهِ" .
عمر بن حبیب، ایک آدمی سے (جو غالباً کینانہ قبیلے کا عتواری تھا) روایت کرتے ہیں، وہ کہتا ہے: میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم فلاں قبیلے سے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں، البتہ انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے۔“ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”دودھ کے بارے میں شبہ ہو سکتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2174]
تخریج الحدیث: «آسنادہ ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 997، 2299، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15780، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13953»
مجہول راوی رجل من كنانة أراه عتواريا

الحكم على الحديث:
آسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں