سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
172. بَابُ مَا تَجْتَنِبُهُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي عِدَّتِهَا
باب: وہ امور جن سے شوہر کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت کو پرہیز کرنا لازم ہے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2133 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3310
نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَسْتَأْذِنُهُ فِي الْكُحْلِ ؛ لأَنَّهُ كَانَ مَاتَ زَوْجُهَا، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهَا، وَقَالَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ الآنَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم کے پاس آئی اور سرمہ لگانے کے متعلق اجازت طلب کی، کیونکہ اس کا شوہر فوت ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ عليه وسلم نے اسے اجازت نہ دی اور فرمایا: تم میں سے ایک عورت زمانہ جاہلیت میں پورا سال گزرنے پر گوبر پھینک کر عدت ختم کرتی تھی، اور اب عدت کی مدت چار مہینے دس دن ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1280، 1281، 5334، 5335، 5336، 5338، 5339، 5345، 5706، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1486، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2215، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4304، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3500، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2299، 2299، 2299، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1195، 1196، 1197، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2330، 2331، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2084، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2133، 2136، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27144، والحميدي فى «مسنده» برقم: 306، 308، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19630»
وضاحت: فائدہ: فقہی احکام (عدتِ وفات): عورت عدت میں: خوشبو نہ لگائے زیور نہ پہنے سرمہ و زینت سے پرہیز کرے نکاح کا پیغام بھی قبول نہ کرے عدت: اگر حاملہ ہو → وضع حمل تک اگر غیر حاملہ ہو → چار ماہ دس دن (القرآن: ﴿وَيَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾)
✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح ہے اور عدتِ وفات میں عورت کی حالت، محدودیتِ عدت، اور زیب و زینت سے اجتناب کے احکام کو واضح کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے: سرمہ جیسے زینتی امور سے منع کیا اور پچھلی قوموں کی سخت عدت کا ذکر کر کے موجودہ شریعت کی آسانی کو ظاہر فرمایا۔
✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح ہے اور عدتِ وفات میں عورت کی حالت، محدودیتِ عدت، اور زیب و زینت سے اجتناب کے احکام کو واضح کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے: سرمہ جیسے زینتی امور سے منع کیا اور پچھلی قوموں کی سخت عدت کا ذکر کر کے موجودہ شریعت کی آسانی کو ظاہر فرمایا۔
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2134 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3311
نا نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، أَتَكْتَحِلُ بِالإِثْمِدِ فِي عِدَّتِهَا؟ قَالَتْ:" لا وَإِنْ نَفَقَتَا، وَلَكِنْ بِالصَّبِرِ وَالذَّرُورِ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو، کیا وہ عدت میں اثمد (مشہور سرمہ) لگائے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نہیں، اگرچہ اس کی آنکھوں میں تکلیف ہو، لیکن صبر اور ذرور (جڑی بوٹیوں سے بنے ہوئے سرمہ) سے علاج کرے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: فائدہ: یہ اثر سنداً صحیح ہے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فقہی فہم اور احتیاطی موقف کی دلیل ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ: عدتِ وفات میں عورت کو زینت سے حتی الامکان پرہیز کرنا چاہیے حتیٰ کہ دوا بھی ایسی ہو جو زینتی نہ ہو
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2135 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3312
نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجهَا:" إِنَّهَا لا تَمَسُّ خِضَابًا، وَلا تَكْتَحِلُ بِكُحْلٍ، وَلا تَلْبَسُ مَصْبُوغًا، وَلا تَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ إِلا نُبَذًا مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ عِنْدَ طُهْرِهَا" .
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”بیوہ عورت خوشبو اور رنگین کپڑے سے بچے، قسط اور اظفار کی خوشبو سے غسل کے وقت تھوڑا استعمال کر سکتی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 313، 1279، 5340، 5341، 5342، 5343، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 938، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4305، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3536، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2302، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2087، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2135، وأحمد فى «مسنده» برقم: 21126، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19303، 19632»
وضاحت: وضاحت: «ما تجتنبه المتوفى عنها زوجها فى عدتها» یعنی: "وہ امور جن سے شوہر کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت اجتناب کرے" کا تسلسل ہے، اور یہ روایت صحابیہ سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کی فقہی وضاحت پر مشتمل ہے، جو عدتِ وفات میں عورت کے لیے زینت سے اجتناب کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔
فائدہ: ستنباطی قاعدہ: عدتِ وفات کی اصل روح "إحداد" (سوگ) ہے، اور اس میں ہر وہ چیز ممنوع ہے جو زینت یا خوشنمائی پر دلالت کرے، سوائے شرعی ضرورت یا نظافت کے۔ ✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح اور متعدد صحابیہ و تابعین کی سند سے مضبوط ہے اور اس سے عدتِ وفات کے دوران عورت کی زینت، لباس، مہندی، سرمہ اور خوشبو کے متعلق تفصیلی فقہی ضوابط واضح ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ حدیث نظافت اور فطری طہارت کو بھی نظرانداز نہیں کرتی، اس لیے تھوڑی مقدار میں قسط اور اظفار جیسی خوشبو اجازت دی گئی ہے — عبادت اور طہارت کے وقت۔
فائدہ: ستنباطی قاعدہ: عدتِ وفات کی اصل روح "إحداد" (سوگ) ہے، اور اس میں ہر وہ چیز ممنوع ہے جو زینت یا خوشنمائی پر دلالت کرے، سوائے شرعی ضرورت یا نظافت کے۔ ✅ خلاصہ: یہ حدیث سنداً صحیح اور متعدد صحابیہ و تابعین کی سند سے مضبوط ہے اور اس سے عدتِ وفات کے دوران عورت کی زینت، لباس، مہندی، سرمہ اور خوشبو کے متعلق تفصیلی فقہی ضوابط واضح ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ حدیث نظافت اور فطری طہارت کو بھی نظرانداز نہیں کرتی، اس لیے تھوڑی مقدار میں قسط اور اظفار جیسی خوشبو اجازت دی گئی ہے — عبادت اور طہارت کے وقت۔
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2136 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3313
نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ لَمَّا جَاءَهَا نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ بِصُفْرَةٍ بَعْدَ الثَّالِثِ، فَمَسَحَتْ بِهَا عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ غَنِيَّةً عَنْ هَذَا لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے وفات کے بعد تیسرے دن خوشبو لگائی اور کہا: ”اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہ سنا ہوتا تو یہ نہ کرتی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1280، 1281، 5334، 5335، 5336، 5338، 5339، 5345، 5706، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1486، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2215، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4304، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3500، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1195، 1196، 1197، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2330، 2331، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2084، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2133، 2136، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27144، والحميدي فى «مسنده» برقم: 306، 308، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19630»
وضاحت: فائدہ: یہ حدیث سنداً صحیح، متفق علیہ اصولی قاعدہ پر مشتمل ہے جس سے درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں: سوگ صرف شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن تک جائز ہے دوسرے رشتہ داروں پر صرف تین دن کی اجازت ہے عدتِ وفات مکمل ہونے کے بعد عورت خوشبو استعمال کر سکتی ہے نص شرعی کی پابندی ہی ایمان کا تقاضا ہے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا عمل اتباع سنت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2137 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3314
نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا:" إِنَّهَا لا تَمَسُّ خِضَابًا، وَلا طِيبًا، وَلا كُحْلا، وَلا ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلا ثَوْبَ عَصْبٍ تَجَلْبَبُ بِهِ، وَلا تَبِيتُ عَنْ بَيْتِهَا حَتَّى تَنْقَضِي عِدَّتُهَا" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بیوہ عورت خوشبو، زینتی سرمہ اور رنگین کپڑے استعمال نہ کرے، صرف سادہ کپڑے اوڑھے اور اپنے گھر میں رہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3314]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2197، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2137، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15600، 15609، 15610، 15634، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12039، 12061، 12062، 12063، 12115، 12116، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19170، 19306، 19308، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4584، 4587، 4588، 4593»
وضاحت: وضاحت: یہ اثر اگرچہ سنداً ضعیف ہے (ابن أبی لیلیٰ کی وجہ سے)، مگر متن صحیح روایات (2133–2136) کے عین مطابق ہے، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فقہی اجتہاد ہونے کے ناطے قابلِ عمل و معتبر ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2138 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3315
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ، لَمَّا مَاتَ عَنْهَا عَبْدُ اللَّهِ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا،" فَكَانَتْ تَقْطُرُ فِيهَا الصَّبِرَ" .
نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا: ”صفیہ زوجہ عبداللہ نے شوہر کی وفات پر آنکھوں میں صبر کا قطرہ ڈالا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3315]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2225، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2138، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12125، 12126، 12127، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19305»
وضاحت: وضاحت: یہ روایت سنداً صحیح اور فقہی عمل کے لحاظ سے قوی ہے اور اس سے درج ذیل اصول اخذ ہوتے ہیں: عدتِ وفات میں عورت زینت سے پرہیز کرے لیکن اگر طبی ضرورت ہو تو غیر زینتی دوا کا استعمال جائز ہے سیدہ صفیہ بنت عبد اللہ کا عمل سلف صالحین کی فقہی بصیرت کی عملی مثال ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2139 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3316
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا:" لا تَكْتَحِلُ بِكُحْلِ زِينَةٍ إِلا بِصَبِرٍ أَوْ ذَرُورٍ، وَلا تَبِيتُ عَنْ بَيْتِهَا، وَلا تَخْرُجُ فِي حَقِّ عِيَادَةٍ أَوْ ذِي قَرَابَةٍ، وَالْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا مِثْلُ ذَلِكَ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”بیوہ عورت زینتی سرمہ نہ لگائے، صرف صبر یا ذرور استعمال کرے اور نہ گھر سے نکلے مگر مجبوری میں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3316]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1346، 1347، 2139، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19163، 19195، 19282، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4595»
ترقیم دار السلفیہ: 2140 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3317
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ فِي الإِحْدَادِ، لَقَدْ سَأَلَتْهُ امْرَأَةٌ تَلْبَسُ خِمَارًا بِبَقَّمٍ وَهِيَ حَادَّةٌ؟ فَقَالَ: لا، فَقَالَتْ: لا وَاللَّهِ مَا لِي غَيْرُهُ، فَقَالَ:" اصْبَغِيهِ إِذًا بِسَوَادٍ"، وَقَالَ عُرْوَةُ: " السُّنَّةُ فِي الإِحْدَادِ أَنَّ الْمَرْأَةَ لا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاثٍ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ أُمِرَتْ أَنْ يَمَسَّ دِرْعَهَا الصُّفْرَةُ أَوِ الزَّعْفَرَانُ، إِنِ الْمَرْأَةُ حَادَّةٌ عَلَى زَوْجِهَا فَإِنَّهَا لا تَمَسُّ شَيْئًا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَجَلُهَا" .
حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ”حداد عورت پر سختی ہے، رنگین خمار جائز نہیں، سیاہ خمار استعمال کرے اور بیوہ عورت عدت پوری کرے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2140، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12133»
وضاحت: فائدہ: «الحداد على غير الزوج لا يجوز فوق ثلاث، أما على الزوج فيكون أربعة أشهر وعشراً» یعنی: غیر شوہر پر سوگ صرف تین دن تک جائز ہے، اور شوہر پر سوگ مکمل عدت (4 ماہ 10 دن) تک فرض ہے ✅ خلاصہ: یہ اثر: سنداً حسن تابعی فقیہ کا قول اور فقہی اصول کی وضاحت ہے اس میں: زینت سے اجتناب کی حدیں سوگ کی مدت رنگ و لباس کی کیفیت سب کچھ نہایت متوازن اور سادہ انداز میں بیان ہوا ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 2141 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3318
نا هُشَيْمٌ، أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَعَفَا وَلِيُّهَا عَنْ نِصْفِ الصَّدَاقِ فَخَاصَمَتْ زَوْجَهَا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ:" قَدْ عَفَا وَلِيُّكِ"، ثُمَّ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ بَعْدُ، فَجَعَلَ " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الزَّوْجَ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”عورت نے نصف مہر پر ولی کے معاف کرنے کے باوجود شوہر سے جھگڑا کیا، شریح نے پہلے ولی کے معاف کرنے کا اعتبار کیا، پھر رجوع کر کے شوہر کو نکاح کا اصل مالک قرار دیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3318]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 385، 390، 2141، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14561، 14563، 14564، 14566، 14570، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3724، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10859، 10886، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17252، 17255، 17260، 17267، 17268»
ترقیم دار السلفیہ: 2142 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3319
نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ:" هُوَ الْوَلِيُّ"، وَكَانَ شُرَيْحٌ يَقُولُ:" هُوَ الزَّوْجُ".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے علقمہ رحمہ اللہ نے نقل کیا: ”ولی عقد نکاح کا مالک ہے۔“ اور شریح رحمہ اللہ کا قول تھا: ”شوہر مالک ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 386، 2142، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14570، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10856، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17274»