🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

171. بَابُ الرَّجُلِ يَدَّعِي وَلَدًا مِنْ زِنًا
باب: اُس مرد کا بیان جو زنا سے پیدا ہونے والے بچے کی نسبت اپنی طرف کرے۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2126 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3303
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " مَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ زِنًا لَمْ يُصَدَّقْ، وَلَمْ يُلْحَقْ بِهِ، وَلَمْ يَرِثْهُ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جو زنا سے بچے کا دعویٰ کرے اس کی بات نہ مانی جائے گی، نہ بچہ اس سے منسلک ہو گا، نہ وراثت دے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3303]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2127 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3304
نا سَلَمَةُ بْنُ هَزَّالٍ، قَالَ: رَكَعْتُ بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَإِذَا طَاوُسٌ عَنْ يَمِينِي، فَسَأَلَهُ خَيَّاطٌ عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا فَوَلَدَتْ مِنْهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَوَلَدَتْ مِنْهُ، مَنْ يَرِثُ مِنْهُمَا، قَالَ:" يَرِثُهُ وَلَدُهُ لِرِشْدَةٍ، وَلا يَرِثُ الآخَرُ مِنْهُ شَيْئًا" .
سیدنا طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: جو مرد نکاح کے بعد بچہ پیدا کرے وہ اس کا وارث ہو گا، پہلے زنا سے پیدا ہونے والا بچہ وارث نہ ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3304]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2128 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3305
نا هُشَيْمٌ ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ لَهُ وَلَدًا مِنْ أُمِّ فُلانٍ مِنْ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ إِنَّهُ لا عَهْرَ فِي الإِسْلامِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الأَثْلَبُ" .
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: زنا میں بچہ نہیں ہوتا، بچہ بستر والے کا ہے اور زناکار کو پتھر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3305]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: درایۃً متن حدیث صحیح ہے (بخاری و مسلم سے مؤید)، لہٰذا قابل استدلال ہے۔
فائدہ: اس حدیث کی بنیاد پر فقہی قاعدہ:
«الولد للفراش»
بچہ اسی کا ہے جس کے بستر (نکاح) پر پیدا ہوا، چاہے حمل میں شک ہو

«وللعاهر الأثلَب»
زانی کے لیے نسب کا کوئی حق نہیں، صرف شرعی سزا یا ذلت

✅ نتیجہ:
یہ روایت فقہی، عدالتی، اور معاشرتی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔
اس سے اسلام کا نکاح کی حرمت، نسب کی پاکیزگی، اور زنا کے رد کا تصور مکمل واضح ہوتا ہے

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2129 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3306
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْسَلَ إِلَى شَيْخٍ فِي دَارِهِمْ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنْ وِلادٍ مِنْ وِلادٍ الْجَاهِلِيَّةِ , فَقَالَ:" أَمَّا النُّطْفَةُ لِفُلانٍ، وَأَمَّا الْفِرَاشُ فَلِفُلانٍ"، فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ، وَلَكِنْ " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِرَاشِ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شیخ سے پوچھا: دور جاہلیت میں ولادت پر فیصلہ کیسے ہوتا تھا؟ تو کہا: نطفہ فلاں کا اور بستر فلاں کا۔ عمر نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے بستر کے حق میں فیصلہ کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3306]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 233، 305، 306، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2005، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2129، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15426، وأحمد فى «مسنده» برقم: 175، والحميدي فى «مسنده» برقم: 24، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 199، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9152، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17786، 17981، 29650، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4675، وأخرجه الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4783، 5128»
وضاحت: وضاحت: انظر حدیث سابق

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2130 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3307
نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ: إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ آخُذَ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَإِنَّهُ ابْنُهُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ نے غلام کے بارے میں جھگڑا کیا، نبی صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے، اے سودہ پردہ کر لو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3307]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2053، 2218، 2421، 2533، 2745، 4303، 6749، 6765، 6817، 7182، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1457، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2736، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4105، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3484، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2273، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2004، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2130، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3850، 4590، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24720، والحميدي فى «مسنده» برقم: 240،وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17980»
وضاحت: فائدہ: سند صحیح اور متفق علیہ ہے — یہ واقعہ صحیح البخاری (حدیث: 2053)، صحیح مسلم، اور دیگر کتب حدیث میں بھی مذکور ہے۔یہ حدیث بالاتفاق صحیح ہے اور نسب کے مسائل میں اصل الاصول کی حیثیت رکھتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے: مشابہت دیکھی، مگر فیصلہ نکاح کی بنیاد پر کیا نسب کے تحفظ کے لیے نص قطعی قائم کر دیا اور پردے کے حکم سے اخلاقی و خاندانی احتیاط کا پہلو بھی سکھایا۔

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2131 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3308
نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے اور زناکار کو پتھر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3308]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6750، 6818، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1458، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3482، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1157، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2281، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2006، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2131، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7382، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1116، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17982، 17986»
وضاحت: فائدہ: یہ حدیث قطعی الثبوت، قطعی الدلالہ، اور اصولِ شریعت میں داخل ہے اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے اس سے زنا کے ذریعے نسب کے انکار اور نکاح کی اہمیت ثابت ہوتی ہے شریعت خاندانی نظام کو تحفظ دیتی ہے اور زنا کے تمام نتائج کو رد کرتی ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2132 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3309
نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَبِفِي الْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے اور زناکار کو پتھر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4104، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3486، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5650، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2132، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5148، والبزار فى «مسنده» برقم: 1711، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17988»
وضاحت: فائدہ: سابقہ احادیث (2130–2131) کی مؤید ہے اور قاعدۂ نبوی "الولد للفراش" کو مختلف سند کے ساتھ دوبارہ نقل کرتی ہے۔ یہ حدیث سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور اس میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی فیصلہ بیان ہوا ہے جو اسلامی شریعت کے قانونِ نسب کی بنیاد ہے۔یہ حدیث بھی صحیح الاسناد اور فقہی اصولی حیثیت کی حامل ہے اس سے شریعت کی یہ تعلیم واضح ہوتی ہے کہ: نسب کو زنا جیسے فاسد عمل سے نہیں جوڑا جا سکتا نسب کی بنیاد نکاح اور عصمت ہے شریعت خاندانوں کے نسبی تحفظ کو ہر قیمت پر برقرار رکھتی ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں