صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. ذكر الزجر عن تتبع المتشابه من القرآن للمرء المسلم-
- اس ممانعت کا ذکر کہ مسلمان شخص کو قرآن کے متشابہات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 73
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ التُّسْتَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلا قَوْلَ اللَّهِ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ سورة آل عمران آية 7 إِلَى آخِرِهَا، فَقَالَ:" رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، فَاعْلَمُوا أَنَّهُمُ الَّذِينَ عَنَى الِلَّهِ، فَاحْذَرُوهُمْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی۔ ”وہی وہ ذات ہے، جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے، جس میں سے بعض محکم آیات ہیں۔“
یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر تک تلاوت کی پھر ارشاد فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو، جو اس کی متشابہ آیات کی تلاوت کرتے ہیں، تو تم یہ بات جان لو! یہ وہ لوگ ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں، تو تم ان سے بچو۔“
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 73]
یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر تک تلاوت کی پھر ارشاد فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو، جو اس کی متشابہ آیات کی تلاوت کرتے ہیں، تو تم یہ بات جان لو! یہ وہ لوگ ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں، تو تم ان سے بچو۔“
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 73]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين: حبان: هو ابن موسى بن سوار السلمي، وعبد الله هو: بن المبارك.
حدیث نمبر: 74
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، وَالْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ثَلاثًا، مَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ، فَاعْمَلُوا بِهِ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ، فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ" أَضْمَرَ فِيهِ الاسْتِطَاعَةَ، يُرِيدُ: اعْمَلُوا بِمَا عَرَفْتُمْ مِنَ الْكِتَابِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَقَوْلُهُ:" وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ" فِيهِ الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّ هَذَا الأَمْرِ، وَهُوَ أَنْ لا يَسْأَلُوا مَنَ لا يَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھ پر قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا ہے۔“ قرآن کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے۔
(یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا:) ”تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے
اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو۔“ اس میں استطاعت کا ذکر پوشیدہ ہے۔ آپ کی مراد یہ ہے: کتاب کے حوالے سے تم جس حکم کو شناخت کر لو، اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو۔
روایت کے یہ الفاظ: ”اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔“ اس میں اس حکم کی خلاف ورزی کی ممانعت ہے اور وہ حکم یہ ہے: لوگ ایسے شخص سے مسائل دریافت نہ کریں جو علم نہیں رکھتا۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 74]
(یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا:) ”تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے
اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو۔“ اس میں استطاعت کا ذکر پوشیدہ ہے۔ آپ کی مراد یہ ہے: کتاب کے حوالے سے تم جس حکم کو شناخت کر لو، اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو۔
روایت کے یہ الفاظ: ”اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔“ اس میں اس حکم کی خلاف ورزی کی ممانعت ہے اور وہ حکم یہ ہے: لوگ ایسے شخص سے مسائل دریافت نہ کریں جو علم نہیں رکھتا۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِلْمِ/حدیث: 74]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1522).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو حازم: هو سلمة بن دينار.