🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. ذكر الزجر عن تتبع المتشابه من القرآن للمرء المسلم-
- اس ممانعت کا ذکر کہ مسلمان شخص کو قرآن کے متشابہات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 74
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، وَالْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ثَلاثًا، مَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ، فَاعْمَلُوا بِهِ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ، فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ" أَضْمَرَ فِيهِ الاسْتِطَاعَةَ، يُرِيدُ: اعْمَلُوا بِمَا عَرَفْتُمْ مِنَ الْكِتَابِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَقَوْلُهُ:" وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ" فِيهِ الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّ هَذَا الأَمْرِ، وَهُوَ أَنْ لا يَسْأَلُوا مَنَ لا يَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مجھ پر قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا ہے۔ قرآن کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے۔
(یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا:) تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے
اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو۔ اس میں استطاعت کا ذکر پوشیدہ ہے۔ آپ کی مراد یہ ہے: کتاب کے حوالے سے تم جس حکم کو شناخت کر لو، اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو۔
روایت کے یہ الفاظ: اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔ اس میں اس حکم کی خلاف ورزی کی ممانعت ہے اور وہ حکم یہ ہے: لوگ ایسے شخص سے مسائل دریافت نہ کریں جو علم نہیں رکھتا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 74]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1522).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو حازم: هو سلمة بن دينار.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة
Newأنس بن عياض الليثي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← أنس بن عياض الليثي
ثقة ثبت
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة مأمون