🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان بكل ما أتى به النبي صلى الله عليه وسلم من الإيمان مع العمل به-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - وضاحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لائے، اس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 175
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقَدْ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّ الإِسْلامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: تَفَرَّدَ بِهِ شُعْبَةُ، وَفِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الإِيمَانَ أَجْزَاءٌ، وَشُعَبٌ تَتَبَايَنُ أَحْوَالُ الْمُخَاطَبِينَ فِيهَا، لأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ:" حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ"، فَهَذَا هُوَ الإِشَارَةُ إِلَى الشُّعْبَةِ الَّتِي هِيَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي جَمِيعِ الأَحْوَالِ، ثُمَّ قَالَ:" وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ"، فَذَكَرَ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، ثُمَّ قَالَ:" وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ"، فَذَكَرَ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الطَّاعَاتِ الَّتِي تُشْبِهُ الأَشْيَاءَ الثَّلاثَةَ الَّتِي ذَكَرَهَا فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنَ الإِيمَانِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، جب وہ ایسا کر لیں گے، تو اپنی جانوں اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور ان لوگوں کا حساباللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو نقل کرنے میں شعبہ نامی راوی منفرد ہے، اور اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ ایمان کے اجزاء اور شعبے ہوتے ہیں، جو اس بارے میں مخاطب لوگوں کے احوال کے حوالے سے مختلف ہوتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ اس بات کی گواہی دیں گےاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں۔ تو اس میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ یہ وہ شعبہ ہے، جو تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے۔ پھر آپ نے یہ فرمایا اور وہ نماز قائم کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کا تذکرہ کیا ہے، جو مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض ہوتی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اور وہ زکوۃ ادا کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کا تذکرہ کیا ہے، جو مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض ہوتی ہے۔ تو یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام نیکیوں، جو ان تین چیزوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے، جس کا آپ نے اس روایت میں ذکر کیا ہے یہ سب ایمان کا حصہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 175]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (408): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، إبراهيم بن محمد بن عرعرة: ثقة، حافظ، تكلم أحمد في بعض سماعه، وباقي السند رجاله رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں