صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب فِي خَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ:
باب: انصار کی صحبت اختیار کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2511 ترقیم شاملہ: -- 6421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ "، فَقَالَ سَعْدٌ: مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا، فَقِيلَ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ.
محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجار ہیں، پھر بنو عبدالاشہل ہیں، پھر بنو حارث بن خزرج ہیں، پھر بنو ساعدہ ہیں اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔“ حضرت سعد (بن عبادہ) رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسروں کو) ہم پر فضیلت دی ہے تو ان سے کہا گیا: آپ کو بھی بہت لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6421]
حضرت ابواسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجا ر ہیں پھر بنو عبدالاشہل ہیں،پھر بنو حارث بن خزرج ہیں پھر بنوساعدہ ہیں اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیرہے۔"حضرت سعد (بن عبادہ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور لوگوں کو) ہم پر فضیلت دی ہے تو ان سے کہاگیا۔آپ کو بھی بہت لو گوں پر فضیلت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6421]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2511
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2511 ترقیم شاملہ: -- 6422
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ابوداؤد نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسی (گزشتہ) روایت کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6422]
امام صاحب اس کے ہم معنی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6422]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2511
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2511 ترقیم شاملہ: -- 6423
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَ سَعْدٍ.
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی بات بیان نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6423]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت مختلف اساتذہ کی سندوں سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں،لیکن اس میں حضرت سعدکا قول بیان نہیں کیاگیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6423]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2511
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2511 ترقیم شاملہ: -- 6424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ خَطِيبًا عِنْدَ ابْنِ عُتْبَةَ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، وَدَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، وَدَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَدَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ مُؤْثِرًا بِهَا أَحَدًا لَآثَرْتُ بِهَا عَشِيرَتِي ".
ابراہیم بن محمد بن طلحہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ کو (ولید) ابن عتبہ (بن ابی سفیان) کے ہاں خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھرانوں میں سے بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے اور بنو عبدالاشہل کا گھرانہ ہے اور بنو حارث بن خزرج کا گھرانہ ہے اور بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے۔“ اللہ کی قسم! اگر میں (ابواسید) ان میں سے کسی کو خود ترجیح دیتا تو اپنے خاندان (بنو ساعدہ) کو ترجیح دیتا۔ (لیکن میں نے اسی ترتیب سے بیان کیا جس ترتیب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6424]
حضرت ابواسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن عتبہ کے ہاں خطبہ دیتے ہوئے بیان کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"انصار کا بہترین خاندان بنو نجار ہے،بنو عبداشہل کا گھرانہ ہے،بنوحارث بن خزرج کا قبیلہ ہے اور بنو ساعدہ کا خاندان ہے،"اللہ کی قسم!اگر میں(اپنی طرف سے)کسی گھرانہ کو ترجیح دیتا تو اپنے خاندان کو ترجیح دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6424]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2511
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2511 ترقیم شاملہ: -- 6425
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَال: شَهِدَ أَبُو سَلَمَةَ لَسَمِعَ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَشْهَدُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أُتَّهَمُ أَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا لَبَدَأْتُ بِقَوْمِي بَنِي سَاعِدَةَ، وَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ، وَقَالَ: خُلِّفْنَا فَكُنَّا آخِرَ الْأَرْبَعِ أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي، آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَلَّمَهُ ابْنُ أَخِيهِ سَهْلٌ، فَقَالَ: أَتَذْهَبُ لِتَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ أَوَ لَيْسَ حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعٍ، فَرَجَعَ، وَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُه أَعْلَمُ وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَحُلَّ عَنْهُ.
ابوزناد نے کہا: ابوسلمہ نے گواہی دی کہ انہوں نے حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ گواہی دیتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجار ہیں، پھر بنو عبدالاشہل، پھر بنو حارث بن خزرج، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔“ ابوسلمہ نے کہا: حضرت ابواسید نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ پر تہمت لگائی جا رہی ہے؟ اگر میں جھوٹا ہوتا تو اپنی قوم بنو ساعدہ کا نام پہلے لیتا۔ (انہوں نے کہا:) یہ بات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو ان کو رنج ہوا اور انہوں نے کہا: ہم کو پیچھے کر دیا گیا، ہم چاروں خاندانوں کے آخر میں آگئے، میرے گدھے پر زین کسو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا، تو ان کے بھتیجے سہل رضیوللہ عنہ نے ان سے بات کی، کہا: آپ اس لیے جا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کر دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے چوتھے ہوں (خیر و برکت میں شامل ہوں؟) تو وہ باز آئے اور کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ اور گدھے (کی زین کھول دینے) کے بارے میں حکم دیا تو وہ کھول دی گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6425]
حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ شہادت دیتے تھے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجارہیں پھر بنوعبدالا شہل پھر بنوحارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ کا گھرا نوں میں خیر ہے۔ابو سلمہ نے کہا: حضرت ابو اسید نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ پر تہمت لگا ئی جا رہی ہے؟ اگر میں جھوٹا ہو تا تو اپنی قوم بنوساعدہ کا نام پہلے لیتا۔(انھوں نے کہا:) سیہ بات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچی تو ان کو رنج ہوا اور انھوں نے کہا: ہم کو پیچھے کر دیا گیا ہم چاروں خاندانوں کے آخر میں آگئے،میرے گدھے پر زین کسور،میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا تو ان کے بھتیجے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بات کی،کہا آپ اس لیے جا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کردیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جا نتے ہیں۔کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے چوتھے ہوں (خیرو برکت میں شامل ہوں؟)تو وہ باز آئے اور کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔اور گدھے (کی زین کھول دینے) کے بارے میں حکم دیا تو وہ کھول دی گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6425]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2511
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2511 ترقیم شاملہ: -- 6426
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: خَيْرُ الْأَنْصَارِ أَوْ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ فِي ذِكْرِ الدُّورِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”انصار میں سے یا (فرمایا:) انصار کے گھرانوں میں سے بہترین۔۔۔“ (آگے انصار کے) گھرانوں کے بارے میں ان سب (راویوں) کی حدیث کے مانند ہے۔ انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6426]
حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےیہ سنا"انصار سے بہترین یا انصار کابہترین گھرانہ"خاندانوں کا تذکرہ کے سلسلہ میں اوپر کی حدیث بیان کی اورسعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6426]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2511
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2512 ترقیم شاملہ: -- 6427
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ عَظِيمٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: " أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ "، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مُغْضَبًا، فَقَالَ: أَنَحْنُ آخِرُ الْأَرْبَعِ حِينَ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَهُمْ، فَأَرَادَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ: اجْلِسْ أَلَا تَرْضَى أَنْ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَكُمْ فِي الْأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّى، فَمَنْ تَرَكَ فَلَمْ يُسَمِّ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّى، فَانْتَهَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہا: کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ مسلمانوں کی ایک بڑی مجلس میں تھے فرمایا: ”میں تم کو انصار کا بہترین گھرانہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”بنو عبدالاشہل۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون ہیں؟ فرمایا: ”بنو نجار۔۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون ہیں؟ فرمایا: ”پھر بنو حارث بن خزرج۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ فرمایا: ”پھر بنو ساعدہ۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون ہیں؟ فرمایا: ”پھر انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھرانے کا نام لیا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ غصے میں کھڑے ہو گئے اور کہا: کیا ہم چاروں میں سے آخری ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنی چاہی تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا: بیٹھ جاؤ، کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے گھرانے کا نام ان چار گھرانوں میں لیا ہے جن کا آپ نے نام لیا ہے۔ حالانکہ جن گھرانوں کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کا نام نہیں لیا، ان کی تعداد ان سے زیادہ ہے جن کا نام لیا۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے سے رک گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6427]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ مسلمانوں کی ایک بڑی مجلس میں تھے فر یا:"میں تم کو انصار کا بہترین گھرا نہ بتاؤں؟"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا:جی ہاں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فر یا:"بنو عبدالاشہل۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون ہیں؟فر یا:" بنو نجا ر۔۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کو ن ہیں؟فر یا:" پھر بنو حارث بن خزرج۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کو ن؟فر یا:" پھر بنو ساعدہ۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کون ہیں؟فر یا:" پھر انصار کے تمام گھرا نوں میں خیر ہے۔"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھرانےکا نا م لیا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے میں کھڑے ہو گئے اور کہا: کیا ہم چاروں میں سے آخری ہیں؟انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنی چا ہی تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا:بیٹھ جاؤ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھا رے گھرا نے کا نام ان چار گھرانوں میں لیا ہے جن کا آپ نے نام لیا ہے۔ حالانکہ جن گھرانوں کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کا نام نہیں لیا،ان کی تعداد ان سے زیادہ ہے جن کا نام لیا۔پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے سے رک گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6427]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2512
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة