صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب في خير دور الانصار رضي الله عنهم:
باب: انصار کی صحبت اختیار کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2511 ترقیم شاملہ: -- 6425
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَال: شَهِدَ أَبُو سَلَمَةَ لَسَمِعَ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَشْهَدُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أُتَّهَمُ أَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا لَبَدَأْتُ بِقَوْمِي بَنِي سَاعِدَةَ، وَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ، وَقَالَ: خُلِّفْنَا فَكُنَّا آخِرَ الْأَرْبَعِ أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي، آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَلَّمَهُ ابْنُ أَخِيهِ سَهْلٌ، فَقَالَ: أَتَذْهَبُ لِتَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ أَوَ لَيْسَ حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعٍ، فَرَجَعَ، وَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُه أَعْلَمُ وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَحُلَّ عَنْهُ.
ابوزناد نے کہا: ابوسلمہ نے گواہی دی کہ انہوں نے حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ گواہی دیتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجار ہیں، پھر بنو عبدالاشہل، پھر بنو حارث بن خزرج، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔“ ابوسلمہ نے کہا: حضرت ابواسید نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ پر تہمت لگائی جا رہی ہے؟ اگر میں جھوٹا ہوتا تو اپنی قوم بنو ساعدہ کا نام پہلے لیتا۔ (انہوں نے کہا:) یہ بات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو ان کو رنج ہوا اور انہوں نے کہا: ہم کو پیچھے کر دیا گیا، ہم چاروں خاندانوں کے آخر میں آگئے، میرے گدھے پر زین کسو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا، تو ان کے بھتیجے سہل رضیوللہ عنہ نے ان سے بات کی، کہا: آپ اس لیے جا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کر دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے چوتھے ہوں (خیر و برکت میں شامل ہوں؟) تو وہ باز آئے اور کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ اور گدھے (کی زین کھول دینے) کے بارے میں حکم دیا تو وہ کھول دی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6425]
حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ یہ شہادت دیتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجار ہیں، پھر بنو عبدالاشہل، پھر بنو حارث بن خزرج، پھر بنو ساعدہ، انصار کے گھرانوں میں خیر ہے۔“ ابوسلمہ نے کہا: حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ پر تہمت لگائی جا رہی ہے؟ اگر میں جھوٹا ہوتا تو اپنی قوم بنوساعدہ کا نام پہلے لیتا۔“ (انہوں نے کہا:) یہ بات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو ان کو رنج ہوا اور انہوں نے کہا: ”ہم کو پیچھے کر دیا گیا، ہم چاروں خاندانوں کے آخر میں آگئے، میرے گدھے پر زین کسو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا۔“ تو ان کے بھتیجے سہل رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی، کہا: ”کیا آپ اس لیے جا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کر دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے چوتھے ہوں (خیر و برکت میں شامل ہوں)؟“ تو وہ باز آئے اور کہا: ”اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔“ اور گدھے (کی زین کھول دینے) کے بارے میں حکم دیا تو وہ کھول دی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6425]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2511
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6053
| خير دور الأنصار بنو النجار |
صحيح البخاري |
3790
| خير الأنصار أو قال خير دور الأنصار بنو النجار وبنو عبد الأشهل وبنو الحارث وبنو ساعدة |
صحيح مسلم |
6427
| خير دور الأنصار بنو النجار ثم بنو عبد الأشهل ثم بنو الحارث بن الخزرج ثم بنو ساعدة وفي كل دور الأنصار خير |
صحيح مسلم |
6425
| خير دور الأنصار دار بني النجار ودار بني عبد الأشهل ودار بني الحارث بن الخزرج ودار بني ساعدة والله لو كنت مؤثرا بها أحدا لآثرت بها عشيرتي |
Sahih Muslim Hadith 6425 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← مالك بن ربيعة الساعدي