🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الإخبار عن نفي الورود على الحوض يوم القيامة عمن صدق الأمراء بكذبهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ قیامت کے دن وہ شخص حوض پر نہیں پہنچے گا جو امراء کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ، وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدَي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ" أَبُو حَصِينٍ: عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم اس وقت نو افراد تھے۔ ہمارے درمیان چمڑے کا بنا ہوا تکیہ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد عنقریب کچھ حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے ہاں نہیں جائے گا، ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“ ابوحصین نامی راوی کا نام عثمان بن عاصم ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 279، 282، 283، 285، 5567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 263، 264، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 614، 615، 2259، 2259 م 1، 2259 م 2، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18413»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - تقدم (279). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، محمد بن عصام بن يزيد، وأبوه، ترجمهما ابن أبي حاتم 8/ 53 و7/ 26، ولم يذكر فيهما جرحاً ولا تعديلاً، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں