🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر التغليظ على من دخل على الأمراء يريد تصديق كذبهم ومعونة ظلمهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس پر سختی کا ذکر کہ جو شخص امراء کے پاس جاتا ہے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق یا ظلم میں مدد کرتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 286
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدَي أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ، وَهُوَ مِنِّي بَرِيءٌ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ مِنِّي" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے جن کے ہاں لوگ آئیں جائیں گے، تو جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، میں اس سے بری الذمہ ہوں اور وہ مجھ سے لاتعلق ہے؛ اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، میرا اس سے تعلق ہے اور اس کا مجھ سے تعلق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 286، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11362، 12053، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2337، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1187، 1286»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 151). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط سليمان بن أبي سليمان، ذكره المؤلف في "الثقات" 4/ 315، وروى عنه قتادة والعوام بن حوشب، وأروده بن أبي حاتم 4/ 122 ولم يذكر فيه جرحاً، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں