صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
15. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر الزجر عن أن يصدق المرء الأمراء على كذبهم أو يعينهم على ظلمهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ انسان کو امراء کے جھوٹ کی تصدیق کرنے یا ان کے ظلم میں مدد کرنے سے روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 285
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم لوگ اس وقت نو افراد تھے، ہمارے درمیان چمڑے کا بنا ہوا تکیہ موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، وہ شخص میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے ہاں نہیں جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہوگا اور میرا اس سے تعلق ہوگا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 279، 282، 283، 285، 5567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 263، 264، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 614، 615، 2259، 2259 م 1، 2259 م 2، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18413»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (279). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط وهو مكرر الحديث (282).