صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
65. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به سليمان الأعمش
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے گمان کیا کہ یہ روایت صرف سلیمان الاعمش سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 335
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ فِي جِنَازَةٍ، فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الأَرْضِ، فقَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ، أَوْ مِنَ النَّارِ" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلا نَتَّكِلُ؟ قَالَ:" اعْمَلُوا، كُلٌّ مُيَسَّرٌ، فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10" قَالَ شُعْبَةُ: حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، فَلَمْ أُنْكِرُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ لی اور اس کے ذریعے زمین کریدنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کا جہنم میں، یا جنت میں مخصوص ٹھکانہ طے کر دیا گیا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے آسانی کر دی جاتی ہے۔“ (ارشادِ باری تعالیٰ ہے): ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَىٰ * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ * وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ * وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ﴾ [سورة الليل: 5-10] ”پس جو شخص دے اور پرہیزگاری اختیار کرے اور اچھائی کی تصدیق کرے، تو ہم اس کے لیے آسانی کو آسان کر دیں گے۔ اور جو شخص بخل کا مظاہرہ کرے اور بے نیازی اختیار کرے اور اچھائی کی تکذیب کرے، تو ہم اس کے لیے تنگی کو آسان کر دیں گے۔“ شعبہ کہتے ہیں: منصور بن معتمر نے مجھے یہ حدیث سنائی، لیکن میں نے سلمان سے منقول ہونے کے حوالے سے اس کا انکار نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1362، 4945، 4946، 4947، 4948، 4949، 6217، 6605، 7552، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2647، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 334، 335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4694، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2136، 3344، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 78، وأحمد فى (مسنده) برقم: 631» «رقم طبعة با وزير 336»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.