صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
64. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر ما يجب على المرء من ترك الاتكال على قضاء الله دون التشمير فيما يقربه إليه
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس امر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل سے غافل نہ ہو بلکہ ان اعمال کو اختیار کرے جو اسے اللہ کے قریب کریں۔
حدیث نمبر: 334
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِ فِي الأَرْضِ، فقَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ"، فقَالَ رَجُلٌ: أَلا نَتَّكِلُ؟ فقَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ" ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ لی اور اس کے ذریعے زمین کو کریدنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم میں سے ہر ایک شخص کا جہنم یا جنت میں مخصوص ٹھکانہ طے کر دیا گیا ہے“، تو ایک صاحب نے عرض کی: کیا ہم (اسی پر) تکیہ نہ کر لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے (اس کا مخصوص عمل) آسان کر دیا جاتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ﴾ [سورة الليل: 5-10] ”پس جو شخص دے اور پرہیزگاری اختیار کرے اور اچھائی کی تصدیق کرے، تو ہم اس کے لیے آسانی کو آسان کر دیں گے اور جو شخص بخل کا مظاہرہ کرے، بے نیازی اختیار کرے اور اچھائی کی تکذیب کرے، تو ہم اس کے لیے تنگی کو آسان کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1362، 4945، 4946، 4947، 4948، 4949، 6217، 6605، 7552، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2647، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 334، 335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4694، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2136، 3344، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 78، وأحمد فى (مسنده) برقم: 631» «رقم طبعة با وزير 335»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ابن ماجه» (78): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو عبد الرحمن السلمي: اسمه عبد الله بن حبيب.