صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
248. باب الجار - ذكر ما يجب على المرء من التصبر عند أذى الجيران إياه
پڑوسی سے متعلق بیان - ہمسایوں کی طرف سے ایذا پہنچنے پر آدمی کے لیے صبر کرنے کی واجب بات کا ذکر
حدیث نمبر: 520
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ جَارًا لَهُ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ:" اصْبِرْ" ثُمَّ، قَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ:" اطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ" فَفَعَلَ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ بِهِ وَيَقُولُونَ: مَا لَكَ؟ فَيَقُولُ: آذَاهُ جَارُهُ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: لَعَنَهُ اللَّهُ فَجَاءَهُ جَارُهُ، فقَالَ: رُدَّ مَتَاعَكَ، لا وَاللَّهِ لا أُوذِيكَ أَبَدًا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ کی خدمت میں اپنے پڑوسی کی شکایت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم صبر سے کام لو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ یا شاید تیسری مرتبہ یہ فرمایا: ”تم اپنا سامان راستے میں ڈال دو۔“ اس شخص نے ایسا ہی کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگ اس کے پاس سے گزرتے وقت دریافت کرتے: تمہیں کیا ہوا ہے؟ تو وہ یہ کہتا تھا کہ اس کے پڑوسی نے اسے تکلیف پہنچائی ہے، تو لوگ یہ کہتے تھے: اللہ کی لعنت ہو، تو اس کا پڑوسی آیا اور بولا: تم اپنا سامان واپس لے جاؤ، اللہ کی قسم! آئندہ میں کبھی تمہیں اذیت نہیں پہنچاؤں گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 520، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5153، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6630» «رقم طبعة با وزير 521»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي ابن عجلان: هو محمد، وأبو خالد الأحمر: هو سليمان بن حبان.