صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
249. فصل من البر والإحسان
فصل نیکی اور احسان -
حدیث نمبر: 521
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ مُوسَى الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْتَبٌ فِي بُرْدَةٍ لَهُ، وَإِنَّ هُدْبَهَا لَعَلَى قَدَمَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي، قَالَ: " عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ، وَلا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَقِي، وَتُكَلِّمَ أَخَاكَ، وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ، فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَلا يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَإِنِ امْرُؤٌ عَيَّرَكَ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ، فَلا تُعَيِّرْهُ بِشَيْءٍ تَعْلَمُهُ مِنْهُ، دَعْهُ يَكُونُ وَبَالُهُ عَلَيْهِ، وَأَجْرُهُ لَكَ، وَلا تَسُبَّنَّ شَيْئًا"، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ دَابَّةً وَلا إِنْسَانًا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ" أَمْرٌ فُرِضَ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ كُلِّهِمْ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ، وإفْرَاغُ الْمَرْءِ الدَّلْوَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي مِنْ إِنَائِهِ، وَبَسْطُهُ وَجْهَهُ عِنْدَ مُكَالَمَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فِعْلانِ قُصِدَ بِالأَمْرِ بِهِمَا النَّدْبُ وَالإِرْشَادُ قَصْدًا لِطَلَبِ الثَّوَابِ.
سیدنا سلیم بن جابر ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی چادر کو احتباء کے طور پر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کا پلو آپ کے پاؤں پر تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تماللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو اور تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو (خواہ وہ نیکی یہ ہو) کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں انڈیل دو، یا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو اور تم تہبند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر کی علامات میں سے ہے اوراللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی خامی کے حوالے سے عار دلائے جس کے بارے میں اسے یہ علم ہو کہ یہ خامی تمہارے اندر موجود ہے، تو تم اسے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عار نہ دلاؤ جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ چیز اس میں ہے، تو وہ جو کرتا ہے تم اسے کرنے دو، اس کا وبال اس کے ذمے ہو گا اور تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا اور تم کسی کو برا ہرگز نہ کہنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد میں نے کبھی کسی جانور یا انسان کو برا نہیں کہا:۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم پراللہ تعالیٰ سے ڈرنا لازم ہے۔“ یہ ایک ایسا حکم ہے، جو تمام مخاطب لوگوں پر فرض ہے کہ وہ تمام حالتوں میںاللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں، جبکہ اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے شخص کے ڈول میں پانی انڈیل دینا یا اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرتے وقت اسے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ایسے فعل ہیں، جن کا حکم دینے کا مقصد استحباب ہے، اور مقصد ثواب کا حصول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 521]
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم پراللہ تعالیٰ سے ڈرنا لازم ہے۔“ یہ ایک ایسا حکم ہے، جو تمام مخاطب لوگوں پر فرض ہے کہ وہ تمام حالتوں میںاللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں، جبکہ اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے شخص کے ڈول میں پانی انڈیل دینا یا اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرتے وقت اسے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ایسے فعل ہیں، جن کا حکم دینے کا مقصد استحباب ہے، اور مقصد ثواب کا حصول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 511»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
تنبيه!! هذا الحديث تكرر في «طبعة باوزير» في موضعين الموضع الأول (511) وقال عنه الشيخ: صحيح لغيره - الصحيحة (1352). الموضع الثاني (522) وقال عنه الشيخ: صحيح - مكرر مضى، برقم (511). أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد إلا بهذا الموضع. ولكن الحديث مكرر ولا فرق بينهما أبدا. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، قرة بن موسى الهجيمي أبو الهيثم لم يوثقه غير المؤلف 5/ 320، ولم يرو عنه غير قرة بن خالد، وباقي رجاله ثقات على شرط الشيخين غير أن صحابيه سليم بن جابر -ويقال: جابر بن سليم أيضاً، ويكنى أبا جري- لم يرويا له ولا أحدهما.
حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَعَلِّمْنَا شَيْئًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ، فقَالَ: " لا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَلَوْ أَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ، وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ وَإِيَّاكَ، وَإِسْبَالَ الإِزَارِ، فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَلا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ، فَلا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّ أَجْرَهُ لَكَ، وَوَبَالَهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِتَرْكِ اسْتِحْقَارِ الْمَعْرُوفِ أَمْرٌ قُصِدَ بِهِ الإِرْشَادُ، وَالزَّجْرُ عَنْ إِسْبَالِ الإِزَارِ زَجْرُ حَتْمٍ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ وَهِيَ الْخُيَلاءُ، فَمَتَى عُدِمَتِ الْخُيَلاءُ، لَمْ يَكُنْ بِإسْبَالِ الإِزَارِ بَأْسٌ وَالزَّجْرُ عَنِ الشَّتِيمَةِ إِذَا شُوتِمَ الْمَرْءُ، زَجْرٌ عَنْهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، وَقَبْلَهُ، وَبَعْدَهُ، وَإِنْ لَمْ يُشْتَمْ.
سیدنا ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں دیہات کا رہنے والا شخص ہوں۔ آپ ہمیں ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جس کے ذریعےاللہ تعالیٰ ہمیں نفع دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم کسی بھی نیکی کو حقیر ہرگز نہ سمجھنا، خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی انڈیل دو۔ خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو اور تم تہبند کو لٹکانے سے بچنا، کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اوراللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے تمہیں برا کہے، جس کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ یہ خامی تمہارے اندر ہے، تو تم ایسی چیز کے حوالے سے اس کو برا نہ کہنا جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ خامی اس کے اندر ہے۔ تمہارا اجر تمہیں مل جائے گا اور اس کا وبال اس شخص پر ہو گا، جس نے وہ بات کہی ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نیکی کو حقیر نہ سمجھنے کا حکم ہونا یہ ایک ایسا امر ہے، جس کے ذریعے رہنمائی کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے، اور تہبند کو لٹکانے سے ممانعت کا حکم ایک لازمی حکم ہے، جو ایک متعین علت کی وجہ سے ہے، اور وہ تکبر کرنا ہے، تو جب تکبر کرنے کی علت معدوم ہو، تو تہبند کو لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ اور جب آدمی کو برا کہا: جائے، تو اس وقت برا کہنے سے ممانعت کا حکم ایسا ہے، جو اس وقت کے لئے بھی ہے اس سے پہلے کے لئے بھی ہے، اور اس کے بعد کے لئے بھی ہے، اگرچہ آدمی کو برا نہ کہا: گیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 522]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نیکی کو حقیر نہ سمجھنے کا حکم ہونا یہ ایک ایسا امر ہے، جس کے ذریعے رہنمائی کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے، اور تہبند کو لٹکانے سے ممانعت کا حکم ایک لازمی حکم ہے، جو ایک متعین علت کی وجہ سے ہے، اور وہ تکبر کرنا ہے، تو جب تکبر کرنے کی علت معدوم ہو، تو تہبند کو لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ اور جب آدمی کو برا کہا: جائے، تو اس وقت برا کہنے سے ممانعت کا حکم ایسا ہے، جو اس وقت کے لئے بھی ہے اس سے پہلے کے لئے بھی ہے، اور اس کے بعد کے لئے بھی ہے، اگرچہ آدمی کو برا نہ کہا: گیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البِرِّ وَالإِحْسَانِ/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 523»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1352).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عقيل بن طلحة فمن رجال أبي داود والنسائي وابن ماجة، وهو ثقة، أبو جري هو سليم بن جابر، ويقال: جابر بن سليم.