صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
368. باب الاستطابة - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه ناسخ للزجر الذي تقدم ذكرنا له
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ اس ممانعت کو منسوخ کرتی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کی
حدیث نمبر: 1420
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَنْهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ"، قَالَ:" ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات سے منع کیا کرتے تھے کہ جب ہم پانی انڈیلیں تو اپنی شرم گاہوں کے ہمراہ قبلہ کی طرف رخ کریں، یا پیشاب کریں (یعنی قضائے حاجت کرتے ہوئے ایسا کریں) راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1417»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (10).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، فقد صرح ابن إسحاق بالتحديث.