صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللَّهُ عَلَى أَهْوَالِهَا:
باب: قیامت کے دن کا بیان اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی سختیوں سے ہماری مدد فرمائے (آمین)۔
ترقیم عبدالباقی: 2862 ترقیم شاملہ: -- 7203
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنُونَ ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، قَالَ: " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: يَقُومُ النَّاسُ لَمْ يَذْكُرْ يَوْمَ "،
زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس آیت کی تفسیر) روایت کی: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (المطففين: 6) ”اس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اس طرح کھڑا ہو گا کہ اس کا پسینہ اس کے کانوں کے درمیان تک ہو گا۔“ اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (”ان میں سے کوئی“ کے بجائے) فرمایا: ”لوگ کھڑے ہوں گے۔“ انہوں نے (ابن مثنیٰ) نے (آیت میں) یوم (اس دن) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7203]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں، گے، (المطففین آیت نمبر6)آپ نے فرمایا:"ان میں سے بعض نصف کانوں تک پسینہ میں کھڑے ہوں گے۔"ابن المثنیٰ کی روایت میں یقوم الناس سے پہلے یوم کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2862
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2862 ترقیم شاملہ: -- 7204
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ , وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَصَالِحٍ، حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ.
موسیٰ بن عقبہ، ابن عون، امام مالک، ایوب اور صالح سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، جو عبید اللہ نے نافع سے بیان کی ہے، البتہ موسیٰ بن عقبہ اور صالح کی روایت ہے: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص آدھے کانوں تک اپنے پسینے میں ڈوبا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7204]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت، اپنے بہت سے اساتذہ کی سندوں سے نافع رحمۃ اللہ علیہ کے واسطہ ہی سے بیان کرتے ہیں،موسیٰ بن عقبہ اور صالح کے الفاظ یہ ہیں۔"ان میں بعض اپنے نصف کانوں تک پسینہ میں غائب ہو جائے گا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2862
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2863 ترقیم شاملہ: -- 7205
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا، وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ أَوْ إِلَى آذَانِهِمْ " يَشُكُّ ثَوْرٌ أَيَّهُمَا قَالَ.
عبدالعزیز بن محمد نے ثور سے، انہوں نے ابوالغیث سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً پسینہ، قیامت کے دن زمین میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے ستر گنا فاصلے تک چلا جائے گا اور لوگوں کے منہ یا ان کے کانوں تک پہنچا ہو گا۔“ ثور کو شک ہے کہ انہوں (ابوالغیث) نے دونوں میں سے کون سے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7205]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے دن پسینہ (70)باغ تک زمین میں چلایا جائے گااور وہ لوگوں کے مونہوں یا ان کے کانوں تک پہنچے گا۔" ثور کو شک ہے کہ استاد نے کون سا لفظ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2864 ترقیم شاملہ: -- 7206
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ "، قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ أَمْ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ، قَالَ: " فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا "، قَالَ: وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ.
عبدالرحمٰن بن جابر سے روایت ہے، کہا: مجھے نیلم بن عامر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج مخلوقات کے بہت نزدیک آ جائے گا حتی کہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا۔“ نیلم بن عامر نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ میل سے ان (مقداد رضی اللہ عنہ) کی مراد مسافت ہے یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں (ڈوبے) ہوں گے، ان میں سے کوئی اپنے دونوں ٹخنوں تک، کوئی اپنے دونوں گھٹنوں تک، کوئی اپنے دونوں کولہوں تک اور کوئی ایسا ہو گا جسے پسینے نے لگام ڈال رکھی ہو گی۔“ (مقداد رضی اللہ عنہ) کہا: اور (ایسا فرماتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7206]
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے بقدر جائے گا۔"سلیم بن عامر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا میل سے ان کی مراد کیا تھی کیا زمین کی مسافت یا وہ میل جس سے آنکھوں میں سرمہ ڈالا جاتا ہے آپ نے فرمایا:"لوگ اپنے اعمال کے بقدرپسینہ میں شرابورہوں گے(یعنی جس قدر اعمال زیادہ برے ہوں گے، اس قدر پسینہ زیادہ چھوٹے گا) ان میں بعض ٹخنوں تک پسینہ میں ہوں گے اور ان میں سے بعض کا پسینہ ان کے گھٹنوں تک ہو گا اور بعض کا ان کے کولہوں کے اوپر تک (یعنی کمر تک)اور بعض وہ ہوں گے جن کا پسینہ ان کے منہ کا اچھی طرح لگام بن رہا ہو گا۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کر کے دکھایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2864
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة