🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

476. باب صفة الصلاة - ذكر وصف ما يتشهد المرء به في جلوسه من صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کے بیٹھنے میں کس تشہد کو ادا کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1950
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، وأبي هاشم ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وأبي الأحوص ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي الصَّلاةِ، نَقُولُ: السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ، فَعَلَّمَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: إِذَا قُلْتُهَا أَصَابَتْ كُلَّ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ، وَنَبِيٍّ مُرْسَلٍ، وَعَبْدٍ صَالِحٍ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ ہمیں نماز میں کیا پڑھنا چاہیے، تو ہم یہ کہا کرتے تھے: سیدنا جبرائیل پر سلام ہو، سیدنا میکائیل پر سلام ہو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ» اللہ تعالیٰ تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے، جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ ابووائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) جب تم یہ کلمات پڑھ لو گے تو ہر مقرب فرشتے، ہر مرسل نبی اور ہر نیک بندے تک یہ سلام پہنچ جائے گا، (تم یہ بھی پڑھو:) «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1950]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 402، وابن الجارود فى "المنتقى"، 228، 736، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 702، 703،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 996، 1948، 1949، 1950، 1951، 1955، 1956، 1961، 1962، 1963، 6402، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 983، وأبو داود فى (سننه) برقم: 968، والترمذي فى (جامعه) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 899، 899 م1، 899 م2، 1892، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1327، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3632» «رقم طبعة با وزير 1947»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (890).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، أبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجشمي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1951
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالا: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، إِلا أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنُحَمِّدَ رَبَّنَا، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، أَوْ قَالَ جَوَامِعَهُ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا: " إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ مَا أَعْجَبَهُ، فَلْيَدْعُ بِهِ رَبَّهُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الأَمْرُ بِالْجُلُوسِ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ أَمْرُ فَرْضٍ دَلَّ فِعْلُهُ مَعَ تَرْكِ الإِنْكَارِ عَلَى مَنْ خَلْفَهُ عَلَى أَنَّ الْجُلُوسَ الأَوَّلَ نَدْبٌ، وَبَقِيَ الآخَرُ عَلَى حَالَتِهِ فَرْضًا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ہمیں دو رکعات پڑھنے کے بعد (تشہد کے دوران) کیا پڑھنا چاہیے، صرف یہ پتا تھا کہ ہمیں تسبیح بیان کرنی چاہیے، تکبیر پڑھنی چاہیے اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنی چاہیے۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلائی کو کھولنے والی چیزوں اور بھلائی کے مجموعوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) بھلائی کے بارے میں جامع باتوں کا علم عطا کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا: جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو تم یہ پڑھو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر دعا کے بارے میں آدمی کو اختیار ہے، وہ جو چاہے اپنے پروردگار سے دعا مانگے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دو رکعات کے بعد بیٹھنے کا حکم ہونا ایک فرض حکم ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل اور اس کے ہمراہ آپ کا اپنے پیچھے موجود لوگوں کا انکار نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلا قعدہ مستحب ہے جبکہ دوسرا قعدہ اپنی حالت پر فرض رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1951]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 402، وابن الجارود فى "المنتقى"، 228، 736، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 702، 703،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 996، 1948، 1949، 1950، 1951، 1955، 1956، 1961، 1962، 1963، 6402، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 983، وأبو داود فى (سننه) برقم: 968، والترمذي فى (جامعه) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 899، 899 م1، 899 م2، 1892، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1327، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3632» «رقم طبعة با وزير 1948»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة»، «الإرواء» (2/ 43).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں