🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. باب الاِسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ
باب: پیشاب سے پاکی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، وَقَالَ: لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا"، قَالَ هَنَّادٌ: يَسْتَتِرُ مَكَانَ يَسْتَنْزِهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قبر میں مدفون) ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں، ان میں سے یہ شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا یہ تو یہ چغل خوری میں لگا رہتا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی، اور اسے بیچ سے پھاڑ کر دونوں قبروں پر ایک ایک شاخ گاڑ دی پھر فرمایا جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں شاید ان کا عذاب کم رہے۔ ھناد نے «يستنزه» کی جگہ «يستتر» (پردہ نہیں کرتا تھا) ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 20]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں کسی بہت بڑی بات میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے۔ رہا یہ شخص! تو یہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور یہ (دوسرا) تو یہ چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی اسے دو حصوں میں چیرا اور ہر دو قبروں پر ایک ایک کو گاڑ دیا اور فرمایا: امید ہے کہ ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔ ہناد کے الفاظ «يَسْتَنْزِهُ» پیشاب سے نہیں بچتا تھا کی بجائے «يَسْتَتِرُ» پردہ نہ کرتا تھا ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 20]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 55 (216)، 56 (218)، الجنائز 81 (1361)، 88 (1378)، الأدب 46 (6052)، 49 (6055)، صحیح مسلم/الطھارة 34 (292)، سنن الترمذی/الطھارة 53 (70)، سنن النسائی/الطھارة 27 (31)، الجنائز 116 (2067)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 26 (347)، (تحفة الأشراف: 5747)، مسند احمد (1/225)، سنن الدارمی/الطھارة 61 (766) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6052) صحيح مسلم (292)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ. وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: يَسْتَنْزِهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں جریر نے «كان لا يستتر من بوله» کہا ہے، اور ابومعاویہ نے «يستتر» کی جگہ «يستنزه» وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا کا لفظ ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 21]
جناب عثمان بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ ہمیں جریر نے منصور کے واسطے سے مجاہد سے بیان کیا ہے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے۔ جریر نے کہا: «كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ» اور ابومعاویہ (محمد بن خازم) کے لفظ ہیں: «كَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ» ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 21]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الطہارة 55 (216)، الادب 49 (6055)، سنن النسائی/ الجنائز 116 (2070)، (تحفة الأشراف: 6424) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (216)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ ثُمَّ اسْتَتَرَ بِهَا ثُمَّ بَالَ، فَقُلْنَا: انْظُرُوا إِلَيْهِ، يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ، فَنَهَاهُمْ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَنْصُورٌ: عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: جِلْدِ أَحَدِهِمْ. وقَالَ عَاصِمٌ: عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَسَدِ أَحَدِهِمْ.
عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں: میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے تو (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم (باہر) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑ کی پھر پیشاب کیا، ہم نے کہا: آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح (چھپ کر) پیشاب کر رہے ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا؟ ان میں سے جب کسی شخص کو (اس کے جسم کے کسی حصہ میں) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: منصور نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے، اور عاصم نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ سے، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 22]
سیدنا عبدالرحمان بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (چمڑے کی) ایک ڈھال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سے پردہ کیا پھر پیشاب کیا۔ ہم (میں سے بعض) نے کہا کہ دیکھو ایسے پیشاب کر رہے ہیں جیسے کہ عورت (چھپ چھپا کر) پیشاب کرتی ہے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنو اسرائیل کے ایک شخص کا کیا حال ہوا تھا؟ ان کو اگر پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ اس حصے کو کاٹ ڈالتے تھے۔ اس شخص نے اپنی قوم کو اس کام سے روک دیا تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ منصور نے ابووائل سے، انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ لفظ کہے «جِلْدِ أَحَدِهِمْ» اپنے چمڑے کو کاٹ دیتے۔ جبکہ عاصم نے ابووائل سے، انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ لفظ کہے «جَسَدِ أَحَدِهِمْ» اپنے جسم کو کاٹ دیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 22]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 26 (30)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 26 (346)، (تحفة الأشراف: 9693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/196) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (30)،ابن ماجه (346)
الأعمش عنعن (تقدم : 14)
وحديث منصور رواه البخاري (225،226،2471) ومسلم (273/74)
وحديث عاصم: لم أجده
اضافه از حبيب الرحمٰن هزاروي: الاعمش صرح بالسماع عند شرح مشكل الآثار (13/ 203)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں