صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1358. باب صلاة الخوف - ذكر الموضع الذي صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه صلاة الخوف التي ذكرناها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس مقام کا ذکر جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ صلاة الخوف ادا کی
حدیث نمبر: 2875
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَالْمُشْرِكُونَ بِضُجْنَانَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَآهُ الْمُشْرِكُونَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ، فَأْتَمَرُوا عَلَى أَنْ يُغِيرُوا عَلَيْهِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ صَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، وَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي بِسِلاحِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ بِوُجُوهِهِمْ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي فَلَمَّا رَفَعُوا رُؤوسَهُمْ رَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي بِسِلاحِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ بِوُجُوهِهِمْ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأْسَهُ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ، مِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ زَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ زَيْدُ بْنُ الصَّامِتِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: عُبَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عُبَيْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الصَّامِتِ.
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر موجود تھے، جبکہ مشرکین ضجنان کے مقام پر موجود تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکوع اور سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیں گے جب عصر کی نماز کا وقت ہوا، تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو سب لوگوں نے بھی تکبیر کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سب لوگوں نے رکوع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو وہ صف سجدے میں گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑی ہوئی تھی اور دوسری صف اپنے ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑی رہی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو دوسری صف نے بھی سجدہ کر لیا جب ان لوگوں نے اپنا سر اٹھا لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو ان سب لوگوں نے رکوع کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑی ہوئی تھی اور دوسری صف اپنے ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑی رہی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو دوسری صف نے بھی سجدہ کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعیاش زرقی نامی راوی کے نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے یہ کہا: ہے کہ ان کا نام زید بن نعمان ہے اور بعض حضرات نے یہ کہا: ہے کہ زید بن صامت ہے۔ بعض نے یہ کہا: ہے عبید بن معاویہ بن صامت ہے جبکہ بعض نے یہ کہا: ہے عبید بن معاذ بن صامت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 257، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2875، 2876، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1256، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1548، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1236، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 686، 2503، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6098، 6106، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1777، 1778، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16847» «رقم طبعة با وزير 2864»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1121).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما