صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
111. فصل في المحتضر - ذكر الأمر لمن حضر الميت بسؤال الله جل وعلا المغفرة لمن حضرته المنية
مرنے والے کے قریب شخص کے ساتھ برتاؤ، اس کے لیے تلقین اور اس وقت کے آداب کا بیان۔ - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص میت کے پاس ہو وہ اللہ جل وعلا سے اس کے لیے مغفرت مانگے جسے موت آئی
حدیث نمبر: 3005
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ"، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ؟ قَالَ:" قُولِي: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً"، قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب تم کسی میت کے پاس جاؤ، تو اچھی بات کہو، کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب (میرے سابقہ شوہر) سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں کیا پڑھوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً» ”اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر اور ہمیں اس کی جگہ اچھا بدل عطا کر۔““ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی جگہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (بطور شوہر) عطا کر دیے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3005]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 919، 920، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3005، 7041، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6829، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1824، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3115، 3118، والترمذي فى (جامعه) برقم: 977، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1447، 1454، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6697، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27140» «رقم طبعة با وزير 2994»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «ابن ماجه» (1447): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين