صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
143. فصل في حمل الجنازة وقولها
فصل: جنازے کو اٹھانے اور اس کے کلام کا بیان -
حدیث نمبر: 3038
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا، يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلا الإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الإِنْسَانُ لَصَعِقَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب جنازہ (چار پائی پر) رکھ دیا جائے اور لوگ اسے گردن (یعنی کندھوں پر) اٹھا لیں، تو اگر وہ (مرحوم) نیک ہو، تو وہ یہ کہتا ہے: تم مجھے آگے لے جاؤ اور اگر وہ نیک نہ ہو، تو وہ یہ کہتا ہے: ہائے! افسوس یہ لوگ اسے کہاں لے جا رہے ہیں؟ اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے، تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3038]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3027»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (444): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
حدیث نمبر: 3039
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ،، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ، وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ، قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا، يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلا الإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الإِنْسَانُ لَصَعِقَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب جنازہ (چار پائی پر) رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اگر وہ نیک ہو، تو یہ کہتا ہے تم مجھے آگے لے جاؤ اور اگر وہ نیک نہ ہو، تو یہ کہتا ہے: ہائے افسوس یہ لوگ اسے کہاں لے جا رہے ہیں، اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے، اگر انسان اسے سن لے، تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3039]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3028»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 3040
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَعِيَادَةِ الْمَرْضَى، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَعِيَادَةِ الْمَرْضَى، أَمْرٌ لِطَلَبِ الثَّوَابِ دُونَ أَنْ يَكُونَ حَتْمًا، وَالأَمْرُ بِتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، لَفْظٌ عَامٌ مُرَادُهُمَا الْخُصُوصُ، وَذَلِكَ أَنَّ الْعَاطِسَ لا يَجِبُ أَنْ يُشَمَّتَ إِلا إِذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِبْرَارُ الْمُقْسِمِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ دُونَ الْكُلِّ، وَالأَمْرُ بِنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي أَمْرَا حَتْمٍ فِي الْوَقْتِ دُونَ الْوَقْتِ، وَالأَمْرِ بِإِفْشَاءِ السَّلامِ أَمْرٌ بِلَفْظِ الْعُمُومِ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ اسْتِعْمَالُهُ مَعَ الْمُسْلِمِينَ دُونَ غَيْرِهِمْ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کو جواب دینے، قسم اٹھانے والی کی قسم پوری کروانے، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو پھیلانے اور دعوت قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جنازے کے ساتھ جانے، بیمار کی عیادت کرنے کا حکم ثواب طلب کرنے کے لیے ہے۔ یہ لازمی حکم نہیں ہے جبکہ چھینکنے والے کو جواب دینے اور قسم پوری کروانے کا حکم اس کے الفاظ عام ہیں لیکن اس کی مراد مخصوص ہے۔ اور وہ یوں کہ چھینکنے والے کو جواب دینا اسی وقت لازم ہوتا ہے جب وہ اللہ کی حمد بیان کرے اور قسم پوری کروانا بعض صورتوں میں لازم ہوتا ہے۔ ہر صورت میں لازم نہیں ہوتا جبکہ مظلوم کی مدد کرنا اور دعوت کو قبول کرنا یہ ایسا حکم ہے، جو کسی وقت میں لازم ہوتا ہے اور کسی وقت میں لازم نہیں ہوتا جبکہ سلام کو پھیلانے کا حکم لفظی طور پر عام ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ مسلمانوں کے علاوہ (غیر مسلموں کے ساتھ) ایسا نہ کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3040]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3029»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم