صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
144. فصل في حمل الجنازة وقولها - ذكر الزجر عن اتباع النساء الجنائز والخروج إليها لهن
فصل: جنازے کو اٹھانے اور اس کے کلام کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورتیں جنازوں کے پیچھے جائیں یا اس کے لیے نکلیں
حدیث نمبر: 3041
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، جَمَعَ نِسَاءَ الأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلامَ، ثُمَّ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ، قَالَتْ: فَقُلْنَا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ، وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " تُبَايِعْنَنِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلا تَزْنِينَ، وَلا تَسْرِقْنَ... الآيَةُ"؟ قَالَتْ: فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَتْ: فَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَيْتِ، وَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، قَالَتْ:" وَأَمَرَنَا بِالْعِيدِ، وَأَنْ نُخْرِجَ فِيهِ الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ، وَلا جُمُعَةَ عَلَيْنَا، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ"، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَسَأَلْتُ جَدَّتِي عَنْ قَوْلِهِ: وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12، قَالَتْ:" نَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ" .
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو انصار کی کچھ خواتین ایک گھر میں جمع ہوئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا، وہ دروازے پر کھڑے ہوئے، انہوں نے ہمیں سلام کیا، ہم نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے بتایا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام رساں ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام رساں کو خوش آمدید، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ خواتین یہ بیعت کریں کہ آپ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور زنا نہیں کریں گی اور چوری نہیں کریں گی (انہوں نے یہ آیت پڑھی)۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے گھر کے باہری حصے کی طرف سے ہاتھ بڑھایا اور ہم نے گھر کے اندرونی حصے سے اپنے ہاتھ بڑھائے، پھر انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ ”ہم اس موقع پر بالغ اور آزاد خواتین کو بھی باہر لے کر آئیں، البتہ ہم خواتین پر جمعہ پڑھنا لازم نہیں ہے“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع کیا تھا۔ اسماعیل نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی (سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”اور وہ نیکی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی“ کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”نوحہ کرنے“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3041]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 324، 351، 971، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 890، وابن الجارود فى "المنتقى"، 115، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1466، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2816، 2817، 3041، 3145، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1418، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 388، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1136، 3127، والترمذي فى (جامعه) برقم: 539، 540، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1650، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1307، 1308، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21121» «رقم طبعة با وزير 3030»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - والأمر بإخراج الحُيَّض في «الصحيحين» - «حجاب المرأة» (25 - 26). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null