🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. باب فرض الزكاة - ذكر الأخبار المفسرة لقوله جل وعلا خذ من أموالهم صدقة تطهرهم وتزكيهم بها
زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی تشریح کرنے والی خبروں کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے فرمایا: "ان کے اموال سے صدقہ لو جو انہیں پاک کرے اور ان کی تزکیہ کرے"
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3268
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحِيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ يُبَيِّنُ بِأَنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَوْلِهِ: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ سورة التوبة آية 103 أَرَادَ بِهِ بَعْضَ الْمَالِ، إِذِ اسْمُ الْمَالِ وَاقِعٌ عَلَى مَا دُونَ الْخَمْسِ مِنَ الذَّوْدِ، وَالْخَمْسِ مِنَ الأَوَاقِ، وَالْخَمْسِ مِنَ الأَوْسُقِ، وَقَدْ نَفِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيجَابَ الصَّدَقَةِ عَنْ مَا دُونَ الَّذِي حَدَّ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، پانچ اوقیہ (سے کم چاندی) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، اور پانچ وسق سے کم (اناج میں) زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس روایت میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا﴾ [سورة التوبة: 103] تم ان کے اموال میں سے زکوٰۃ کو وصول کر کے انہیں پاک و صاف کر دو کے ذریعے بعض مال مراد ہے، کیونکہ لفظ مال کا اطلاق اس چیز پر بھی ہوتا ہے جو پانچ اونٹوں، پانچ اوقیہ چاندی یا پانچ وسق اناج سے کم ہو، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مخصوص حد سے کم میں زکوٰۃ لازم ہونے کی نفی کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3268]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1405، 1447، 1459، 1484، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 979، وابن الجارود فى "المنتقى"، 375، 384، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2263، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3268، 3275، 3276، 3277، 3281، 3282، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1558، 1559، والترمذي فى (جامعه) برقم: 626، 627، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1673، 1674، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1793، 1799، 1832، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7343، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11187» «رقم طبعة با وزير 3257»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1394): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں