🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

94. باب صدقة الفطر - ذكر البيان بأن قول أبي سعيد صاعا من طعام أراد به صاع حنطة
صدقۂ فطر کا بیان - اس بات کا بیان کہ ابو سعید کے قول "صاع طعام سے" سے مراد ایک صاع گندم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3306
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، فِيمَا انْتَخَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابِ الْكَبِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : وَذَكَرُوا عِنْدَهُ صَدَقَةَ رَمَضَانَ، فَقَالَ:" لا أُخْرِجُ إِلا مَا كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعَ تَمْرٍ، أَوْ صَاعَ حِنْطَةٍ، أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعَ أَقِطٍ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ؟ فَقَالَ:" لا، تِلْكَ قِيمَةُ مُعَاوِيَةَ، لا أَقْبَلُهَا وَلا أَعْمَلُ بِهَا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ لوگوں نے ان کے سامنے صدقہ فطر کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: میں تو صدقہ فطر اسی طرح نکالوں گا جس طرح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نکالتا تھا یعنی کھجور کا ایک صاع یا گندم کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے ان سے کہا: یا پھر گندم کے دو مد؟ تو انہوں نے فرمایا: جی نہیں، یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ قیمت ہے، میں اسے قبول نہیں کروں گا اور اس پر عمل بھی نہیں کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3306]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1505، 1506، 1508، 1510، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 985، وابن الجارود فى "المنتقى"، 393، 394، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2407، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3305، 3306، 3307، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1500، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1616، 1618، والترمذي فى (جامعه) برقم: 673، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1829، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7766، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2096، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11249، والحميدي فى (مسنده) برقم: 759» «رقم طبعة با وزير 3295»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح: دون قوله: «أو صاع حنطة»؛ فإنه ليس بمحفوظ - «ضعيف أبي داود» (284).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں