🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

169. باب ذكر الإخبار عن إباحة تعداد النعم للمنعم على المنعم عليه في الدنيا - ذكر الإخبار عن نفي دخول الجنة عن المنان بما أعطى في ذات الله
اس بیان کا باب جس میں منعم کے لیے دنیا میں منعم علیہ پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرنا جائز بتایا گیا ہے - اس بات کی اطلاع کہ جو شخص اللہ کی راہ میں دیے ہوئے پر احسان جتاتا ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3383
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفِيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالْمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنِيَةٍ، وَلا مَنَّانٌ، وَلا عَاقٌّ، وَلا مُدْمِنُ خَمْرٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى نَفِيِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنِيَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ، وَوَلَدُ الزِّنِيَةِ لَيْسَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَوْزَارِ آبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ شَيْءٌ، أَنَّ وَلَدَ الزِّنِيَةِ عَلَى الأَغْلَبِ يَكُونُ أَجْسَرَ عَلَى ارْتِكَابِ الْمَزْجُورَاتِ، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ وَلَدَ الزِّنِيَةِ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ جَنَّةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ ذِي الزِّنِيَةِ مِمَّنْ لَمْ تَكْثُرْ جَسَارَتُهُ عَلَى ارْتِكَابِ الْمَزْجُورَاتِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ، احسان جتانے والا شخص، (والدین کا) نافرمان اور باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے جنت میں داخل ہونے کی نفی کرنا، حالانکہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پر اس کے ماں باپ کے گناہ کا بوجھ نہیں ہونا چاہیے؛ اس کا مفہوم یہ ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے عام طور پر ممنوعہ چیزوں کا زیادہ ارتکاب کرتے ہیں، اس لیے اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہو گی کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جنت کے اس حصے میں داخل نہیں ہو گا جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو زنا کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور ممنوعہ کاموں کا زیادہ ارتکاب نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3383]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3383، 3384، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5688، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4894، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2138، 2139، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20047، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6648» «رقم طبعة با وزير 3374»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (673).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں