صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
176. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر السبب الذي به يصير السائل ملحفا
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر سائل ملحف بن جاتا ہے
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ فَهُوَ مُلْحِفٌ" ، قَالَ: قُلْتُ: الِيَاقُوتَةُ نَاقَتِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، قَالَ: وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص (دوسرے سے کچھ) مانگے، حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) موجود ہو، تو وہ شخص لپٹ کر سوال کرنے والا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سوچا میری اونٹنی یاقوتہ تو ایک اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3381»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (1440).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي