🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

113. باب حجامة الصائم - ذكر خبر ثان يصرح بالزجر عن الفعل الذي ذكرناه قبل
روزہ دار کے لیے حجامت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ فعل سے منع کرنے کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3535
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدٍ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ أَوْهَمَا عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّهُمَا مُتَضَادَّانِ، وَلَيْسَا كَذَلِكَ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ، وَلَمْ يَرُوَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرٍ صَحِيحٍ أَنَّهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ دُونَ الإِحْرَامِ، وَلَمْ يَكُنْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا قَطُّ إِلا وَهُوَ مُسَافِرٌ، وَالْمُسَافِرُ قَدْ أُبِيحَ لَهُ الإِفْطَارُ: إِنْ شَاءَ بِالْحِجَامَةِ، وَإِنْ شَاءَ بِالشَّرْبَةِ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنْ شَاءَ بِالشَّرْبَةِ مِنَ اللَّبَنِ، أَوْ بِمَا شَاءَ مِنَ الأَشِيَاءِ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" لَفْظَةُ إِخْبَارٍ عَنْ فِعْلٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ ذَلِكَ الْفِعْلِ نَفْسِهِ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): ان دونوں روایات نے ایک عالم کو غلط فہمی کا شکار کیا کہ یہ دونوں متضاد ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے تھے۔ اس وقت آپ روزے کی حالت میں تھے احرام باندھے ہوئے تھے۔ اور کسی بھی مستند روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل نہیں کی گئی ہے کہ آپ نے احرام کے علاوہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام اسی وقت باندھے ہوئے تھے جب آپ مسافر تھے مسافر شخص کے لیے روزے کو ختم کرنا مباح ہوتا ہے۔ خواہ وہ پچھنے لگوا کر کرے۔ خواہ وہ پانی کا گھونٹ پی کر کرے۔ اگر وہ چاہے، تو وہ دودھ کا گھونٹ پی کر یا کوئی اور چیز (کھا یا پی کر) روزے کو ختم کر سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا لفظی طور پر کسی فعل کے بارے میں اطلاع دینا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے: اس فعل پر عمل کرنے سے منع کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3535]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3527»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 70 - 71). * [قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَانِ خَبَرَانِ ... ذَلِكَ الْفِعْلِ نَفْسِهِ] قال الشيخ: قلت: وفيما قاله المؤلف - رحمه الله - نظر مِنْ وَجْهَيْنِ: الأول: أَنَّهُ لا يَلزمُ مِنْ كونَه لم يرو أَنَّهُ احتجم وهو صائم دون الإحرام، أَنَّ ذلك لم يقع منه، بل يَكفِي في ذلك مُطلقُ الحديث الأوَّل: «احتجم وهو صائم»، وبخاصةٍ أنَّ في رواية البخاريّ: «احتجم وهو صائم، واحتجم وهو مُحرمٌ»، فجعلهما قَضِيَّتَيْنِ مُستقلَّتَينِ، وهو أصحُّ مِنْ جَمعهما بلفظ: «احتجم وهو صائم مُحرمٌ» فجعلها قضيَّةً واحدة، وعلى ذلك جرى المؤلف فقال ما قال. وروايةُ البُخاريّ هي الأصحُّ. انظر كلام الحافظ في «الإرواء» (4/ 77). والآخرُ أَنَّهُ ثبت الترخيص للصائم بالحجامة، فانظر «صحيح أبي داود» (2055)، و «الإرواء» (4/ 72 - 74).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں